کھلے مکانوں والی اب خیموں میں

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، بنوں
بنوں میں یہ میری پہلی بار آمد تھی لیکن میں پہلی نہیں تھی۔ میری جیسی ہزاروں لاکھوں خواتین تھیں جو پہلی بار اِس شہر میں آئیں تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ میں ملک کے دارالحکومت اور سہولیات سے آراستہ جدید شہراسلام آباد سے اپنی مرضی کے تحت یہاں پہنچی جبکہ دیگر خواتین حالات اور واقعات کے جبر سے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں ۔
اِس شہر میں آنے کے باوجود اب بھی وہ چار دیواری تک محدود ہیں اور اُن تک رسائی انتہائی مشکل اور دشوار ہے ۔ اسی وجہ سے شاید اب کی بار بھی یہ ممکن نہ ہو پائے کہ دُنیا اُن کی کہانی انہی کی زبانی سُنے۔
ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں یہی جاننے کا تجسس مجھے پُرخطر وار زون میں کھینچ لایا۔ مقامی ثقافت و روایات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے ایک بڑی چادر اوڑھ لی تھی مگر جب اِس شہر میں داخل ہوئے تو محسوس ہوا کہ یہ ناکافی ہے کیونکہ بازار اور سڑکوں پر جو بھی خواتین نظر آئیں انھوں نے روایتی سفید برقعے پہن رکھے تھے جنھیں کچھ لوگ ’شٹل کاک‘ بھی کہتے ہیں۔
بنوں میں سب سے پہلے میری ملاقات خواتین کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم خواندہ کور یعنی ’بہنوں کا گھر‘ کی نمائندہ یاسمین سے ہوئی۔ یاسمین میران شاہ میں خواتین کے ساتھ بھی کام کرتی رہی ہیں۔ یہ تنظیم طالبان کے خوف کے باعث چند سال غیر فعال بھی رہی لیکن بعد میں صورتحال میں کچھ قدر تبدیلی آنے کے بعد اِس نے اپنی سرگرمیاں بحال کیں۔
یاسمین کی اِس بات نے مجھے حیران کیا کہ خواتین دیگر بنیادی اشیاء کے ساتھ برقعہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں حالانکہ جنوبی وزیرستان کے برعکس شِمالی وزیرستان میں خواتین پردہ نہیں کرتیں۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ ’قبائل میں مل جُل کر رہنے کا رواج عام ہے۔ اُن کے گھر بڑے ہوتے ہیں جس میں قریب اور دور کے رشتے دار خواتین مل جُل کر رہتی ہیں ۔گو قبائلی عورتیں اپنے گھروں سے باہر قدم نہیں رکھتیں لیکن تمام عورتیں کافی کُھلی ڈھلی رہنے کی عادی ہوتی ہیں۔‘
یاسمین کے مطابق شمالی وزیرستان کی یہ خواتین آرام دہ آشیانوں سے بے دخل کر دی گئی ہیں تو اُنھیں بے پردگی کا احساس ہوتا ہے۔
’وہ اپنے دیگر مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ مطالبہ کرتی ہیں کہ انھیں برقعہ فراہم کیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنیادی معلومات کے بعد جب ہم اِن خواتین سے ملنے کے لیے روانہ ہونے لگے تو یاسمین نے سیاہ رنگ کا برقعہ اوڑھا اور مجھے بھی درخواست کی کہ میں بھی ایسا ہی حُلیہ اختیار کرلوں ورنہ اُن خواتین کے گھروں میں جانا اور بات کرنا ممکن نہ ہوگا۔
ساتھ میں انھوں نے ایک اضافی برقعے کی بھی پیش کش کی جو میں نے جھٹ قبول کرلی۔
بظاہر تو برقعہ عام کپڑے کی بنی ایک لمبی سی چادر ہی ہوتی ہے لیکن اسکو پہن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں محدود ہوگئی ہوں اور چمکتی دھوپ میں بھی نقاب سے دیکھنا دشوار ہوگیا اور غور سے دیکھنے کی کوشش میں میرا سر دُکھنے لگا۔
خیر ہم بنوں کے مضافات میں واقع اینٹ گارے کی بھٹی کے قریب پہنچے جس کے مالک نے خدا ترسی کے تحت شِمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کو رہنے کے لیے کچے پکے کوارٹرز دیے ہیں۔
اِن چھوٹے چھوٹے ایک یا دو کمروں کے ہر کوارٹر میں کم از کم پندرہ پندرہ افراد آباد ہیں جِن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی نظر آتی ہے۔
میں یاسمین کے ساتھ ایک ایسے ہی گھر میں داخل ہوئی جہاں ایک کمرے میں چار چارپائیاں اور بے ترتیب برتن پڑے دکھائی دیے۔ ایک بوڑھی خاتون چارپائی پر براجمان تھیں۔ بچیاں اور نوجوان عورتیں ادرگرد جمع ہوگئیں۔
اُن میں سے ایک لڑکی نے بڑھ کے میرا برقعہ لینے کی کوشش کی۔ شاید اُس کو یہ احساس تھا کہ سخت گرمی میں برقعہ میں رہنا کتنا تکلیف دہ ہے۔ میں نے بتایا کہ میرے پاس دوپٹہ نہیں ہے ۔تو بھاگی بھاگی دوپٹہ لے آئی۔
کام اور آڈیوریکارڈنگ ذہن پر اتنا سوار تھا کہ بے خیالی میں دوپٹہ سر پہ لینے کے بجائے میں نےگردن میں ڈال لیا تو چارپائی پہ بیٹھی بزرگ خاتون نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے مجھے تنبیہ کی کہ سر سے دوپٹہ لوں۔گواُس وقت گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔

ایک سولہ سالہ لڑکی سے جب پوچھا کہ بنوں آنے کے بعد لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو بتایا کہ دن رات ایک پیر پر کھڑی رہتی ہیں کیونکہ سر چھپانے کو جو جگہ میسر ہے اُس میں اتنی جگہ نہیں کہ ذرا دیر پیر پھیلا کے لیٹ جائیں اور سستا لیں۔
اکثر خواتین میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر منہ چُھپا لیتی تھیں۔ وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں؟ یاسمین نے بتایا کہ ’وہ سمجھتی ہیں کہ اِس سے اُن کی تصویر بنائی جارہی ہے ۔ اگر آپ اُن کے سامنے موبائل فون استعمال کر رہے ہوں تو وہ اُس کو بھی دیکھ کر ڈر جاتی ہیں کہ کہیں آپ اُنکی ویڈیو تو نہیں بنا رہے۔
میں ان کی اجازت کے ساتھ ایک سال کی بچی کی تصویر بنا رہی تھی تو اُس کی ماں اپنا منہ چھپانے لگی۔ بچی رونے لگی اور میں نے تصویر نہیں بنائی۔ اِس بات کی یقین دہانی کرانے کے لیے میں نے اُس عورت کو تمام تصویریں چیک کروائیں۔
اِن قبائلی خواتین کے ساتھ گزارے چند گھنٹوں میں مجھے احساس ہوا کہ گو خوراک اور پانی ان کی بنیادی ضرورتیں ہیں لیکن اُنھیں اپنے گھروں میں ملی محدود آزادی سب سے زیادہ یاد آتی ہے ۔
اُنھیں حکومتی فیصلوں اور سیاسی سوجھ بوجھ تو نہیں ہے لیکن اپنے مردوں کی بتائی ہوئی باتوں کی روشنی میں وہ چاہتی ہیں کہ انھیں بار بار کی زحمت دینے کے بجائے، حکومت جو کرنا ہے ایک ہی دفعہ کر لے تاکہ وہ امن و چین کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔







