بنوں پہنچنے والے متاثرینِ شمالی وزیرستان

آپریشن ضربِ عضب کے بعد خیبر پختونخوا میں آنے والے متاثرینِ شمالی وزیرستان کی حالتِ زار

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے باعث اب تک قریباً تین لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے باعث اب تک قریباً تین لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
متاثرین کےلیے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں صرف ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیا گیا ہے لیکن بنیادی سہولیات کے فقدان اور دور دراز علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے متاثرین وہاں جانے سے گریز کررہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کےلیے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں صرف ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیا گیا ہے لیکن بنیادی سہولیات کے فقدان اور دور دراز علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے متاثرین وہاں جانے سے گریز کررہے ہیں۔
وفاقی حکومت ، پنجاب اور سندھ حکومتوں کی طرف سے متاثرین کو خیبر پختون خوا تک محدود رکھنے کے فیصلے سے متاثرین کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی حکومت ، پنجاب اور سندھ حکومتوں کی طرف سے متاثرین کو خیبر پختون خوا تک محدود رکھنے کے فیصلے سے متاثرین کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
وفاق ، سندھ اور پنچاب کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور اس سلسلے میں بعض خاندانوں کو ٹیکسلا کے مقام پر روک کر انھیں واپس خیبر پختونخوا کی طرف بھیجا بھی جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوفاق ، سندھ اور پنچاب کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور اس سلسلے میں بعض خاندانوں کو ٹیکسلا کے مقام پر روک کر انھیں واپس خیبر پختونخوا کی طرف بھیجا بھی جا چکا ہے۔
پاکستان میں اس سے پہلے بھی قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں لیکن ان کے لیے پہلے سے بہتر انتظامات موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اس سے پہلے بھی قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں لیکن ان کے لیے پہلے سے بہتر انتظامات موجود تھے۔
شمالی وزیرستان کے باشندوں کو پہلے چار دن کرفیو کے دوران گھر کے اندر محصور رکھا گیا پھر جب انھیں علاقے سے نکل جانے کی اجازت دی گئی تو اس وقت انہیں گاڑیاں نہیں مل رہی تھیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کے باشندوں کو پہلے چار دن کرفیو کے دوران گھر کے اندر محصور رکھا گیا پھر جب انھیں علاقے سے نکل جانے کی اجازت دی گئی تو اس وقت انہیں گاڑیاں نہیں مل رہی تھیں۔
کئی خاندانوں نے پیدل 18 سے 20 گھنٹوں کی مسافت طے کی اور خواتین ، بچوں اور مال مویشی سمیت بنوں پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنکئی خاندانوں نے پیدل 18 سے 20 گھنٹوں کی مسافت طے کی اور خواتین ، بچوں اور مال مویشی سمیت بنوں پہنچے۔
راستوں میں بھوک پیاس اور دیگر مشکلات کے باعث اب تک ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراستوں میں بھوک پیاس اور دیگر مشکلات کے باعث اب تک ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔
سفر کی مشکلات کے دوران متاثرین کو اپنے مویشیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
،تصویر کا کیپشنسفر کی مشکلات کے دوران متاثرین کو اپنے مویشیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔