’ہر محلے میں پناہ گزین ہیں‘

بنوں سے تقریباً پندرہ کلومیٹرر دور کاشو پل کے مقام پر حکومت نے ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبنوں سے تقریباً پندرہ کلومیٹرر دور کاشو پل کے مقام پر حکومت نے ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، بنوں

بنوں شہر کا شاید ہی کوئی ایسا محلہ، چوک یا گلی ہو جہاں شمالی وزیرستان سے آپریشن کے متاثرین نظر نہ آئے ہوں۔ رشتے داروں اور احبابوں کے علاوہ سرکاری و نجی سکولوں، گداموں، اینٹوں کے بٹھوں سمیت ہر جگہ ان کا پڑاؤ ہے۔

شہر کی مرکزی شاہراہ پر واقع سٹڈیم سے راشن کی تقسیم کی جا رہی ہے، جہاں پر لوگوں کی قطار صبح لگتی ہے اور سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہے۔

ایک نوجوان چنگچی پر سامان لادے اپنی فیملی کی جانب جا رہا تھا۔ یہ نوجوان صبح سات بجے قطار میں شامل ہوا اور دوپہر کو امدادی سامان لینے میں کامیاب ہوگیا۔

اس سامان میں چار افراد کے سونے جتنا ایک خیمہ، زمین پر بچھانے کی دو دریاں، پاکستانی فوج کی جانب سے تحفہ کے عنوان سے دس کلو آٹھ کا تھیلا۔ مجاہد بناسپتی گھی کا بڑا ڈبہ شامل تھا، یہاں ہر خاندان کم سے کم پندرہ افراد پر مشتمل ہے جس کے لیے یہ راشن شاید ایک ہفتہ کے لیے بھی ناکافی ہو۔

اس نوجوان کی طرح ضروری نہیں ہے کہ تمام لوگوں خوش نصیب ہوں۔ کچھ لوگ اس مرحلے کو تذلیل سمجھتے ہیں، شہر سے ایک کلومیٹر باہر اینٹوں کے بٹھے کے کوارٹر میں رہائش پذیر باریش نوجوان نے بتایا کہ وہ گذشتہ چار روز سے سٹڈیم جا رہے ہیں لیکن انتظار کر کے واپس آجاتے ہیں اور ان کی باری نہیں آتی ہے۔

’یہ جو آرمی والے ہیں، یہ لاٹھی سے بھی مارتے ہیں، فائرنگ بھی کرتے ہیں۔ جس طرح سے یہ راشن دے رہے ہیں آپ دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اس راشن سے بھوکے مر جانا بہتر ہے۔‘

کیا متاثرین کی غذائی ضرویات پوری ہو سکیں گی؟
،تصویر کا کیپشنکیا متاثرین کی غذائی ضرویات پوری ہو سکیں گی؟

نادرا کی رجسٹریشن شروع ہونے سے پہلے بھی یہاں کئی خاندان آئے جو اب کسی بھی امداد سے محروم ہیں۔ میر علی سے آنے والے ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ تیس مئی کو یہاں آئے تھے اور اس وقت آپریشن اتنا تیز نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹری پوائنٹ سیدگئی میں بھی اس وقت نادرا کا کوئی بندوبست نہیں تھا، صرف فوجی تھے جو انٹرویو کر رہے تھے کہ کتنے کتنے لوگ ہیں لیکن انھوں نے بھی کوئی پرچی نہیں دی تھی۔

اس بزرگ کا کہنا تھا کہ حکومت رجسٹریشن میں مصروف نادرا عملے اور سینٹروں میں اضافہ کرے کیونکہ چار پانچ لاکھ لوگوں کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے عملہ کم ہے۔

بنوں سے بکا خیل داخل ہونے والی سڑک کو ایف سی نے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے۔ بکا خیل میں ہی واحد سرکاری کیمپ قائم ہے۔ ہم نے بھی اس کیمپ میں جانے کوشش کی لیکن ہمیں جانے نہیں دیا گیا جبکہ ایک ملک سمیت کچھ لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر آگے جانے کی اجازت دی گئی۔

ایک چوٹی نما چوکی سے ایک اہلکار نے آ کر بتایا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جبکہ یہ دوسری بات تھی کہ اس سے پہلے پروٹوکول میں کچھ بین الاقوامی ادارے اس کیمپ میں جاچکے تھے۔

بنوں سے تقریباً پندرہ کلومیٹرر دور کاشو پل کے مقام پر حکومت نے ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ اب وہاں ایک این جی او کا تنبو موجود ہے۔

اس این جی او کے اہلکار عدنان محسود نے بتایا کہ یہاں ستر کنال زمین ہے، یہاں بیس فٹ زیر زمین پانی مل جاتا ہے، گیارہ ہزار وولٹ بجلی کی لائن گذر رہی ہے جبکہ ساتھ میں پولیس چوکی موجود ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے بجائے کیمپ بکا خیل میں بنایا گیا جہاں اب صرف چند خاندان موجود ہیں اور وہاں زمین بھی سخت ہے اس وجہ سے بھی لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے جبکہ یہاں زمین نرم ہے۔

بنوں آنے کے بعد بھی کچھ لوگ واپس میر علی جاچکے ہیں۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ کچھ گھریلو سامان لینے میر علی گیا تھا جہاں اس نے دو تین ہیلی کاپٹر اور جیٹ بمبار فضا میں گشت کرتے دیکھے لیکن زمینی طور پر وہاں نہ طالبان تھے اور نہ ہی پاکستان فوج نظر آئی۔ ’فوجی شاید پہاڑوں میں چل گئے تھے جبکہ طالبان پتہ نہیں کہاں چلے گئے ، ہم وہاں آٹھ گھنٹے رہے اور واپس آگئے۔‘

شہر میں حافظ سعید احمد کے فلاحی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، مسعود اظہر کے الرحمت ٹرسٹ کے علاوہ جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام کے کیمپ نظر آتے ہیں۔ حکومت نے ابھی تک بین الاقوامی اداروں کو یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جس وجہ سے ان اداروں پر انحصار کرنے والی مقامی این جو اوز بے بس نظر آتی ہیں۔