شاہد آفریدی آپریشن کے متاثرین کے لیے کرکٹ میچ کھیلیں گے

شاہد آفریدی نے کہا کہ ماضی میں بھی وہ متعدد فلاحی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں لیکن کافی عرصے سے وہ سوچ رہے تھے کہ مستقل بنیادوں پر وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے غریب اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی نے کہا کہ ماضی میں بھی وہ متعدد فلاحی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں لیکن کافی عرصے سے وہ سوچ رہے تھے کہ مستقل بنیادوں پر وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے غریب اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے کرکٹ میچ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہد آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے نام سے منسوب فاؤنڈیشن کے تحت قائم کردہ ہسپتال کی تعارفی تقریب کے موقع پر بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لاہور میں ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کا انعقاد کر کے اس سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی ان افراد کو دی جائے جو شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے سبب گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

شاہد آفریدی نے بتایا کہ انھوں نے کوہاٹ کے قریب واقع گاؤں تنگی بانڈہ میں سولہ بستروں کا ایک میٹرنٹی اسپتال بنایا ہے جس میں علاج معالجے کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ انھوں نے صرف اپنے گاؤں میں ایک کلینک کے بارے میں سوچا تھا لیکن یہ خواب ایک ہسپتال کی شکل میں شرمندہِ تعبیر ہوا ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال بنا کر دوسروں کے لیے مثال قائم کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال بنا کر دوسروں کے لیے مثال قائم کی تھی

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس ہسپتال کے لیے دور دراز کے گاؤں کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ شہر میں تو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں موجود ہیں لیکن دور دراز علاقوں میں لوگ ان سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مائیں اور بچے علاج نہ ہونے کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ماضی میں بھی وہ متعدد فلاحی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں لیکن کافی عرصے سے وہ سوچ رہے تھے کہ مستقل بنیادوں پر وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے غریب اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال بنا کر دوسروں کے لیے مثال قائم کی تھی۔ شوکت خانم ہسپتال کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ہسپتال بہت ہی بڑے پیمانے پر قائم ہوا تھا تاہم وہ ان گاؤں اور دور دراز علاقوں تک پہنچنا چاہتے ہیں جہاں علاج کی کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ ان علاقوں میں پائلٹ پروجیکٹس شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت میسر آسکے۔

شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ اس ہسپتال کے لیے انھوں نے کسی سے کوئی مدد نہیں لی ہے، جس زمین پر یہ ہسپتال قائم ہوا ہے وہ ان کے والد کی زمین ہے اور ہسپتال کے تمام اخراجات بھی انھوں نے خود ہی اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی خود ہی اس کام کو لے کر آگے چلیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس اسپتال کے فنڈز کے لیے اپنے کرکٹ بیٹ اور دیگر سامان کی نیلامی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ ملک اور ملک سے باہر فلاحی ڈنرز کریں گے۔