’متاثرینِ شمالی وزیرستان کی مدد کے لیے فوج اور حکومت متحد ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی مشکلات کے حل کے لیے فوج اور حکومت مل کر کام کر رہے ہیں۔
جمعے کو بنوں کے دورے کے موقعے پر انھوں نے ہر خاندان کے لیے امدادی پیکیج کو بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ رمضان المبارک کے دوران ہر خاندان کو 20 ہزار روپے کا خصوصی الاؤنس بھی دیا جائے گا۔
<link type="page"><caption> ’امدادی کارروائیاں مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140624_waziristan_idps_aid_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140623_waziristan_displaced_updates_monday_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
وزیراعظم نواز شریف نے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ہرممکن امداد کی فراہمی کا یقین دلایا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مشکلات کا اندازہ ہے اور فوجی اور سول حکام متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے ان افراد کی سہولت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جنھوں نے دہشت گردوں کی جانب سے حکومتی عمل داری چیلنج کیے جانے کے باعث اپنے گھر بار چھوڑے۔
نواز شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں امن کے قیام کے بعد نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے گھروں کو محفوظ اور پرامن واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے وزیر اعظم کو متاثرین کے لیے قائم امدادی کیمپوں میں کیے گئے انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے فوج کے افسران اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیرِ اعظم کے دورے کے موقعے پر بنوں کینٹ کے علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت کی گئی تھی اور شہر میں زیادہ نقل و حمل پر پابندی تھی۔ مقامی صحافیوں کے مطابق شہر بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مسائل کا سامنا رہا۔
اس دورے میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، سیفران کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
قبائلی شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب شروع ہوئے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ اس آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان کی چھ تحصیلوں سے چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
متاثرین کے لیے حکومت کی طرف سے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں ایک کیمپ بنایا گیا ہے لیکن انتظامات کے فقدان کے باعث وہاں اب تک صرف 100 کے قریب افراد نے پناہ لی ہے۔
زیادہ تر متاثرہ خاندان بنوں اور آس پاس کے اضلاع میں اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ادھر پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن بلا کسی امتیاز کے تمام شدت پسندوں گروپوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کہ آپریشن میں ’اچھے طالبان ہے یا برے طالبان‘ کا امتیاز نہیں رکھا جا رہا ہے بلکہ یہ سب کے خلاف ہو رہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران اب تک 327 عسکریت پسند مارے گئے ہیں جب اس دوران دس سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔







