’دہشت گردوں کا علاج فوج کے پاس ہے‘

کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ ٹوئٹر پاکستان میں خبروں کی فوری ترسیل کا اہم ذریعہ بن گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ ٹوئٹر پاکستان میں خبروں کی فوری ترسیل کا اہم ذریعہ بن گیا ہے
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ روایتی میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر حکام اور عوام کی جانب سے درست خبروں کے لیے ترجیح بنتا جا رہا ہے۔

پہلے حملے کے بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر میڈیا کو کہا کہ ’کراچی کے ہوائی اڈے کے اندر سے براہِ راست نشریات بند ہونی چاہییں کیونکہ یہ کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں، اس کی مدد سے فوجیوں کی موجودگی اور اہم مقامات کی نشاندہی ہو رہی ہے جو دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے۔‘

آج ہونے والا دوسرا حملہ ابھی جاری تھا کہ ممنوعہ تنظیم ٹی ٹی پی کے ’مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی کے پرسنل سیکرٹری عمر خراسانی‘ کی ٹویٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کراچی اے ایس ایف اکیڈمی میں ہم پھر آگئے، نعرہ تکبیر۔‘

یہ ٹویٹ صبح آٹھ بج کر 37 منٹ پر کی گئی تھی۔ اس کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹ کر کے لوگوں کو احساس دلایا کہ حملہ زیادہ بڑا نہیں ہے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’تین سے چار دہشت گردوں نے اے ایس ایف کے کیمپ کے قریب فائرنگ کی، خاردار تاریں کراس نہیں کر سکے، اندر داخل نہیں ہوئے، تعاقب جاری ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔‘

ٹوئٹر پر سرگرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے بعد سے KarachiAirportAttack کے ہیش ٹیگ کا استعمال کر کے اب تک 60 ہزار کے قریب ٹویٹس کی جا چکی ہیں، جبکہ یہ دونوں الفاظ پاکستان میں ٹرینڈ کرنے والے الفاظ میں ٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔

اگر آپ آج کے حملے سے پہلے اور بعد ’عمر خالد خراسانی کے پرسنل سیکرٹری عمر خراسانی‘ کی ٹویٹس دیکھیں تو مندرجہ ذیل ٹویٹس سامنے آتی ہیں:

جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے اس سارے آپریشن کے دوران ٹویٹس کی گئیں

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنجنرل عاصم سلیم باجوہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے اس سارے آپریشن کے دوران ٹویٹس کی گئیں

نو جون کو رات دو بج کر دس منٹ پر ٹویٹ کی گئی: ’اللہ حافظ دوستو، میں دوستوں کے ساتھ شوٹنگ کی پریکٹس کے لیے جا رہا ہوں۔‘

اس سے تھوڑی دیر پہلے اسی ہینڈل سے یہ دھمکی آمیز ٹویٹ کی گئی کہ ’میڈیا مالکان، نفرت انگیز صحافی اور اینکر یہ ذہن میں رکھیں کہ ہمارے فدائین آسانی سے تمھارے دفاتر تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

اس سارے عمل کے دوران حکومتی وزرا کی جانب سے بہت کم بیانات سامنے آئے مگر ٹوئٹر پر خواجہ سعد رفیق کے ٹوئٹر ہینڈل اور فیس بُک پیج پر ان کی ٹویٹ دکھائی دی: ’امن کی خواہش کے لیے ہی بات چیت کا عمل شروع کیا تھا، دہشت گردوں کا علاج فوج کے پاس ہے، فوج کو علاج کی کھلی چھٹی دے دی ہے۔‘

خواجہ سعد رفیق کی ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنخواجہ سعد رفیق کی ٹویٹ

جب اس پر خواجہ سعد رفیق کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو ان کے پولیٹیکل سیکرٹری نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ فیس بُک پیج اور ٹوئٹر ہینڈل ان کا ہی ہے، تاہم جب اس ٹویٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے تصدیق کرنے کے لیے لیے وقت مانگا، مگر متعدد بار فون کرنے پر اُن کا فون مسلسل مصروف ملا۔

خواجہ سعد رفیق کے فیس بُک پیج کا سکرین شاٹ

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنخواجہ سعد رفیق کے فیس بُک پیج کا سکرین شاٹ

کیا یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوج کو مکمل اختیار دے دیا ہے یا یہ میاں نواز شریف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ والا معاملہ ہے جس کی اصلیت سے انکار کرنے کے باوجود یہ اکاؤنٹ میاں نواز شریف کے حوالے سے ذاتی خبریں اور معلومات باقاعدگی سے ٹویٹ کرتا رہتا ہے۔ ایسی معلومات جو ان کے کسی قریبی شخص ہی کے علم میں ہو سکتی ہیں۔