کراچی ایئرپورٹ میں کے قریب فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار، ایئرپورٹ کھل گیا
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 48 گھنٹوں میں شدت پسندوں نے دوسری بار حملہ کیا ہے اس بار ان کا نشانہ اے ایس ایف کے اہلکار تھے۔
،تصویر کا کیپشنشدت پسند اے ایس ایف کیمپ کے قریب فائرنگ کرنے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے ۔
،تصویر کا کیپشنجس جگہ فائرنگ ہوئی اسی علاقے میں اے ایس ایف کا ریڈار بھی نصب ہے۔فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی رینجرز، پولیس اور اے ایس ایف کی بھاری نفری طلب کر لی گئی جبکہ کراچی ایئر پورٹ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے۔
،تصویر کا کیپشنفائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ کے قریب واقع کراچی کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ بھی معطل کر دیاگیا اور صورتحال قابو میں آنے کے بعد ایئرپورٹ کو کھول دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی جنھوں نے اے ایس ایف کے کیمپ کے قریب فائرنگ کی۔
،تصویر کا کیپشنایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے کرنل طاہر کا کہنا تھا کہ دو حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس پر وہاں سے سو میٹر دور موجود اے ایس ایف کے جوانوں نے جوابی فائرنگ کی۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے حفاظتی ٹاور سے بھی حملہ آوروں کو نشانہ بنایا۔
،تصویر کا کیپشناتوار کو کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد ایئرپورٹ پر سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اتوار کی رات بھر حملہ آوروں کے خلاف جاری رہنے والے آپریشن کے بعد پیر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنکراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتوار کی رات سے فوج کے اہلکار بکتر بند گاڑیوں میں موجود ہیں۔ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر بھی اتوار کی رات سے ہائی الرٹ ہے۔
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کے خلاف تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائیاں میں 10 حملہ آوروں سمیت 29 افراد ہلاک ہوئے۔ان میں 11 ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکار، چار پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے عملے کے ارکان، ایک رینجر کا جوان، ایک پولیس کا سپاہی اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشناس کارروائی کے دوران اے ایس ایف کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 13 زخمی ہوئے۔ اے ایس ایف کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشناے ایس ایف کی جانب سے کارروائی کے بعد رینجرز اور پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا اور حملہ آوروں کو گھیرے میں لے کر ہلاک کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے عملے کے چار ارکان بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ پیر کو تقریباً 16 گھنٹے کے بعد کراچی کے ہوائی اڈے سے پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ہی مئی 2011 میں پاکستانی بحریہ کی مہران بیس پر حملہ ہوا۔ جدید اسلحے سے لیس ایک درجن کے قریب دہشتگردوں نے پی این ایس مہران پر حملہ کیا تھا۔ پاکستانی بحریہ کا ایک اہم جہاز اورائن تباہ ہوا۔ دس اہلکار اور تین شدت پسند مارے گئے۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں کا منصوبہ پرانے اور نئے ہوائی اڈوں پر کھڑے تمام جہازوں کو تباہ کرنے کا تھا لیکن سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی قائداعظم جناح ٹرمینل کی جانب پیش قدمی روک دی۔