’قائد کی گرفتاری پر ایم کیو ایم کے دھرنے‘

الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالطاف حسین کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جماعت کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کے خلاف کراچی کے مرکزی علاقے میں واقع نمائش چورنگی پر دھرنا دیا گیا ہے۔

پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے قریب دیے جانے والے اس دھرنے میں جماعت کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں کارکن بھی شامل ہیں۔

لندن میں الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر نشر ہونے کے ساتھ ہی کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع جماعت کے مرکزی دفتر سمیت ملک بھر میں کارکن مقامی تنظیمی مراکز پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

گرفتاری کے خلاف دھرنے کی کال دیے جانے کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کارکنوں کو نمائش چورنگی پہنچے کی ہدایت کی تھی۔

حیدر عباس رضوی نے کہا تھا کہ رابطہ کمیٹی باہمی مشاوات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ الطاف حسین کے حوالے سے صورت حال انتہائی حساس ہے اور ایم کیوایم پرامن طریقے سے صورت حال کامقابلہ کرےگی۔

انھوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نمائش چورنگی پر دھرنا دیں اور الطاف حسین سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کریں اور اس بات کا انتظار کریں کہ الطاف حسین کب ان سے بات کرتے ہیں۔

انھوں نے ملک کے عوام اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ الطاف حسین سے اظہار یکہجتی کے لیے فوری طور پر اپنے اپنے شہروں کے پریس کلبوں پر پرامن طور پردھرنا دیں۔

کراچی کے علاوہ حیدرآباد میں بھی پریس کلب کے باہر ایک بڑا دھرنا جاری ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے صورتحال کا مقابلہ کرےگی۔

صحافی علی حسن کے مطابق ابتدائی طور پر شہر میں 12 مقامات پر دھرنے دیے گئے تاہم بعدازاں ان میں شریک افراد کو پریس کلب کے باہر بڑے دھرنے میں شریک ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ایم کیو ایم زونل انچارج نوید شمسی نے بتایا ہے کہا آئندہ ہدایات تک حیدرآباد پریس کلب کے باہر دھرنا جاری رہے گا۔

لندن میں الطاف حسین گرفتاری کے بعد پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور حیدرآباد میں جہاں ایم کیو ایم کو سیاسی غلبہ حاصل ہے، معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں اور شہر میں تمام کاروباری سرگرمیاں عملاً معطل ہو چکی ہیں۔

گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد دونوں شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔

کراچی اور حیدرآباد کے بعض علاقوں میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کراچی میں تمام کاروباری و تجارتی مراکز بند ہوگئے جبکہ سی این جی اور پیٹرول پمپ نے بھی کاروبار معطل کر دیا۔

سڑکوں پر ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی اور پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔