پشاور: پولیس پر ’خودکش‘ حملہ، ہلاکتیں8 ہو گئیں

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قبائلی علاقے کی سرحد کے قریب پولیس پر ہونے والے ایک مبینہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
پولیس کنٹرول کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ جبکہ زخمیوں کی تعداد تقربیاً 40 تک پہنچ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کو خیبر ایجنسی کے سرحد کے قریب واقع پشاور کے مضافاتی علاقے سربند میں ایک بازار میں پیش آیا۔
ایس پی کینٹ فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی نماز سے قبل پولیس کی نفری علاقے میں معمول کا گشت کر رہی تھی کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آوار نے پولیس اے پی سی کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اْڑا دیا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان مذاکراتی کمیٹی کے اراکین طالبان سے مشاورت کے لیے شمالی وزیرستان سے ہو کر واپس آئی ہے جہاں انھوں نے امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی تھی۔
فیصل کامران نے کہا کہ حملے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور پچیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ہیں۔ زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ قبائلی علاقے باڑہ کی حدود سے چند سو میٹر دور بٹاتل بازار میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں قریب واقع پٹرول پمپ، دوکانوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک کسی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پشاور کا مضافاتی علاقہ سربند قبائلی علاقے باڑہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں پولیس اہلکاروں پر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع سربند پولیس چوکی پر شدت پسندوں کی طرف سے کئی بار رات کی تاریکی میں راکٹ حملے کئے گئے ہیں۔







