’بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینےکی تجویز ختم ہوچکی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزارت تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت کو اس وقت تک تجارتی شراکت دار کا رتبہ نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ کپڑے کی پاکستانی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی کا وعدہ نہیں کرتا۔
بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا: ’بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی تجویز تو ختم ہو چکی۔ اب اس کے ساتھ غیر امتیازی تجارتی روابط والے ملک کا درجہ (این ڈی ایم اے) دیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’اس کی منظوری بھی اُسی صورت دی جائے گی جب وہ (بھارت) پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر کپڑے کی صنعت پر عائد ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کرے۔‘
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ یہ درجہ دینے کے لیے وزارتی سطح پر تمام کام مکمل ہو چکا ہے۔
’اب یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش ہونا ہے جس کی رسمی منظوری ضروری ہے۔ جیسے ہی بھارت کی جانب سے ہمیں اپنے تحفظات پر مثبت جواب ملے گا کابینہ بھارت کے لیے اس خصوصی مراعاتی رتبے کی منظوری دے دے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وقت پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر 80 سے 120 فیصد تک ڈیوٹیز عائد کر رکھی ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔
’اگر بھارت غیر امتیازی تجارتی روابط چاہتا ہے تو ان ڈیوٹیز کو صفر سے پانچ فیصد تک کی حد میں لانا ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بعض دیگر مصنوعات بھی ہیں جن میں پاکستان کو رعایت درکار ہے۔ ان میں کیمیائی اور طبی آلات بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی حکومت ترجیحی بنیادوں پر بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتی ہے اور اس کی راہ میں کسی سیاسی تنازعے کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
’لیکن تجارت دو طرفہ معاملہ ہے۔ اگر ہمارے تاجروں، صنعتوں، کسانوں اور معیشت کو اس تجارت سے فائدہ نہ ہو تو یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت کے ساتھ ایک جیسے تجارتی تعلقات چاہتا ہے اور اس بات سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بھارت میں کس جماعت کی حکومت ہے۔
"لیکن اگر بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ اس حکومت کے دور میں نہ ہوا تو اس میں غیر ضروری تاخیر ہو گی کیونکہ انتخابات اور اس کے بعد نئی حکومت کے قیام اور اس کو اپنا ایجنڈا طے کرنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔"







