پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت پر مذاکرات

سیکریٹری سطح کے مذاکرات کے بعد امکان ہے کہ دونوں وزرا باہمی تجارت بڑھانے کے سلسلے میں مستقبل کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسیکریٹری سطح کے مذاکرات کے بعد امکان ہے کہ دونوں وزرا باہمی تجارت بڑھانے کے سلسلے میں مستقبل کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے سلسلے میں سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات دہلی میں شروع ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق امکان ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ تجارت کو مزید آزادانہ بنانے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے پروگرام پر عملدرآمد کی نئی ٹائم لائن طے کریں گے۔

پاکستان اور بھارت باہمی تجارت بڑھانے کے تین معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں مگر ان پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اگست میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے انتہا پسندوں کا دباؤ بڑھا اور اسی دباؤ کے تناظر میں پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان نے فی الحال بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے تجارت خرم دستگیر خان بھی سارک ممالک کے اقتصادی گروپ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے جمعرات کو نئی دلی جا رہے ہیں جہاں ان کی اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات متوقع ہے۔

سیکریٹری سطح کے مذاکرات کے بعد امکان ہے کہ دونوں وزرا باہمی تجارت بڑھانے کے سلسلے میں مستقبل کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پیر کے روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ دسمبر 2013 میں پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کے بعد لائن آف کنٹرول پر صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔

پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

اس سے قبل بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے کوئی خلاف ورزی کی تو بھارت اس کے جواب میں ویسا ہی اقدام کرے گا۔

پاکستانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل طور پر پاسداری کرتا ہے، اور اس قسم کے الزامات اور اشتعال انگیز بیانات افسوسناک اور امن کے عمل کے خلاف ہیں۔

اس سے قبل دونوں ممالک کی فوجوں کے ڈی جی ایم او کی ملاقات کی 24 دسمبر کو ہوئی تھی۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر میں نیویارک میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ملاقات میں ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کی ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔