چودہ سال بعد پاک بھارت ملاقات ’تعمیری اور مثبت ‘

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, لاہور
پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان سرحدوں پر سیز فائر برقرار رکھنے، اعتماد سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور ہاٹ لائن رابطوں کو مزید تنیجہ خیز بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
لاہور کے واہگہ بارڈر پر پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملڑی آپریشنز کے درمیان چودہ برس کے تعطل کے بعد ملاقات ہوئی جس میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی میں کمی سے متعلق بات چیت کی گئی۔
پاکستان اور بھارت کی افواج کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مثبت اور تعمیری رہی۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کے بارے میں فوری اطلاع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ان کی جلد واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔
ملاقات میں پاکستان کے پانچ رکنی وفد کی قیادت میجر جنرل عامر ریاض جبکہ بھارت کے چھ رکنی وفد کی قیادت جنرل ونود بھاٹیہ نے کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سرحدوں پر امن کے استحکام کے لیے جلد ہی لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے بریگیڈ کمانڈروں کی دو فلیگ میٹنگز بلائی جائیں گی۔
دونوںوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اس ملاقات کا اہتمام پاکستان کی خواہش پر کیا گیا تھا۔ گذشتہ ہفتے پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس ملاقات کا دعوت نامہ بھجوایا تھا۔
دونوں ملکوں کے درمیان ڈی جی ایم او کی سطح پر رابطوں کا معاہدہ نوے کی دہائی میں ہوا تھا اور آخری مرتبہ یہ ملاقات 1999 میں گارگل کے واقعے کے بعد ہوئی۔ سنہ 2003 میں پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کا سمجھوتہ کیا جو کئی برس تک قائم رہا تاہم حالیہ برس دونوں جانب سے سینکڑوں مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی گئی جس دوران کئی فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے۔
رواں برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر ہونے والی پاک بھارت وزرائے اعظم کے ملاقات میں ڈی جی ایم اوز کی سطح پر رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







