’ڈی جی ایم او کی ملاقات دو تین ہفتوں میں‘

سرتاج عزیز نے اس دورے میں کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات ہے
،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز نے اس دورے میں کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات ہے

وزیر اعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں فوجوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) ’دو تین ہفتوں کے اندر’ ملاقات کریں گے۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مسٹر عزیز نے کہا کہ آئندہ منگل دونوں ڈی جی ایم او یہ طے کریں گے کہ ’ ملاقات کہاں اور کب ہو۔۔۔یہ ملاقات دو تین ہفتوں میں ہوجانی چاہیے۔‘

دونوں ملکوں کے وزرا اعظم نے نیو یارک میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ باہمی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے لائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی ضروری ہے جس کے کا طریقہ کار دونوں فوجوں کے ڈی جی ایم او وضع کریں گے۔ لیکن ڈیڑھ مہینہ گزر جانے کے باوجود اس تجویز کو عملی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ بھارتی قیادت سے ملاقاتوں میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم دو ہزار تین کے سیز فائر معاہدے پر پوری سنجیدگی سےعمل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔اور بجلی کی خرید اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے جو بات چیت چل رہی تھی، وہ بھی جاری رہے۔‘

سرتاج عزیز نے اس تاثر کو رد کیا کہ کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ان کی ملاقات کا بھارتی وزیر خارجہ سے ان کی بات چیت پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ پندرہ برسوں میں جب بھی کوئی پاکستانی وزیر خارجہ دلی آیا ہے تو اس نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔ان کی رائے معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔‘

علیحدگی پسند رہنماؤں سے سرتاج عزیز کی ملاقات پر بھارت میں سخت رد عمل سامنے آیا تھا اور سلمان خورشید نے کہا تھا کہ وہ’سرحد پار سے آنے والے بزرگ رہنما کو صلاح تو نہیں دینا چاہتے لیکن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت کی سوچ اور احساسات کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘

سرتاج عزیز کے مطابق یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر باضابطہ طور پر چھ مہینے میں ایک مرتبہ ضرور ملیں گے۔

سرتاج عزیز پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں۔ وہ ایشیائی اور یورپی وزرا خارجہ کے اجلاس (اے ایس ای ایم) میں شرکت کے لیے دلی آئے ہوئے تھے۔