خوف کے سائے میں رہنے والوں کی کہانیاں

1989 میں عسکری تحریک سے پہلے سرحدی گاؤں کے یہ لوگ کنٹرول لائن پار کر کے اپنے رشتے داروں سے ملنے جایا کرتے تھے

کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان 2003 میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی جس پر عموماً دونوں ملکوں کی افواج عمل کرتی رہیں۔ لیکن بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین مہینے میں جنگ بندی کی دو سو سے زیادہ خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔
کنٹرول لائن کے دونون جانب متعدد گاؤں بسے ہوئے ہیں ۔ بعض گاؤں اتنے قریب ہیں لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں ۔ 1989 میں عسکری تحریک سے پہلے سرحدی گاؤں کے یہ لوگ کنٹرول لائن پار کر کے اپنے رشتے داروں سے ملنے جایا کرتے تھے
،تصویر کا کیپشنکنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان 2003 میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی جس پر عموماً دونوں ملکوں کی افواج عمل کرتی رہیں۔ لیکن بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین مہینے میں جنگ بندی کی دو سو سے زیادہ خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔ کنٹرول لائن کے دونون جانب متعدد گاؤں بسے ہوئے ہیں ۔ بعض گاؤں اتنے قریب ہیں لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں ۔ 1989 میں عسکری تحریک سے پہلے سرحدی گاؤں کے یہ لوگ کنٹرول لائن پار کر کے اپنے رشتے داروں سے ملنے جایا کرتے تھے
کنٹرول لائن کے نزدیک کے گاؤں دونوں ملکوں کی فائرنگ کی زد میں ہیں۔ گولہ باری سے ان گاؤں کو زبردست نقصان پہنچتا ہے ۔ بہت سے باشندے گولہ باری میں مارے جا چکے ہیں۔ بہت سے افراد اپنے اعضا گنوا چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکنٹرول لائن کے نزدیک کے گاؤں دونوں ملکوں کی فائرنگ کی زد میں ہیں۔ گولہ باری سے ان گاؤں کو زبردست نقصان پہنچتا ہے ۔ بہت سے باشندے گولہ باری میں مارے جا چکے ہیں۔ بہت سے افراد اپنے اعضا گنوا چکے ہیں۔
ریاض احمد شیخ ایک قلی تھے۔ ڈیڑھ برس قبل کنٹرول لائن پر بارودی سرنگوں کے دھماکے سے ان کا پیر ضائع ہوگیا۔
،تصویر کا کیپشنریاض احمد شیخ ایک قلی تھے۔ ڈیڑھ برس قبل کنٹرول لائن پر بارودی سرنگوں کے دھماکے سے ان کا پیر ضائع ہوگیا۔
نثار احمد لون بھی کنٹرول لائن کے نزدیک رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننثار احمد لون بھی کنٹرول لائن کے نزدیک رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ضمیر حسن تنگ ڈار کے باشندے ہیں۔ ماضی میں کنٹرول لائن پر ہونے والی گولا باری میں ان کے بھائی، دادا، نانی، خالہ اور کئی لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنضمیر حسن تنگ ڈار کے باشندے ہیں۔ ماضی میں کنٹرول لائن پر ہونے والی گولا باری میں ان کے بھائی، دادا، نانی، خالہ اور کئی لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
محمد اقبال شاہ خاردار تار لگانے کا کام کر رہے تھے۔ گولہ باری سے وہ ایک کھائی میں گر پڑے۔ فوج نے نہ ان کا مناسب علاج کرایا اور نہ ہی انہیں معاوضہ ادا کیا ۔ ان کا آدھا جسم معزور ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحمد اقبال شاہ خاردار تار لگانے کا کام کر رہے تھے۔ گولہ باری سے وہ ایک کھائی میں گر پڑے۔ فوج نے نہ ان کا مناسب علاج کرایا اور نہ ہی انہیں معاوضہ ادا کیا ۔ ان کا آدھا جسم معزور ہے۔
انجینئیر عبد الرشید کنٹرول لائن کے قریبی قصبے لنگیٹ سے رکن اسمبلی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پوری کنٹرول لائن جہنم بن چکی ہے۔ گولہ باری کے دوران گھروں میں لوگ محفوظ نہیں ہیں اور باہر نکل نہیں سکتے ۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔‘
،تصویر کا کیپشنانجینئیر عبد الرشید کنٹرول لائن کے قریبی قصبے لنگیٹ سے رکن اسمبلی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پوری کنٹرول لائن جہنم بن چکی ہے۔ گولہ باری کے دوران گھروں میں لوگ محفوظ نہیں ہیں اور باہر نکل نہیں سکتے ۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔‘