میر علی: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ’عدنان رشید کے مکان پر بمباری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے قصبے میر علی میں سکیورٹی فورسز کی بمباری میں سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مفرور ملزم عدنان رشید کا مکان بھی بمباری کی زد آیا ہے۔
تاہم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو فون کر کے بتایا کہ عدنان رشید سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں محفوظ رہے ہیں۔
شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ عدنان رشید شمالی وزیرستان میں موجود ہی نہیں ہیں۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی رات شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے جس میں 25 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں پاک فضائیہ کے طیاروں کی بمباری راولپنڈی اور بنوں چھاؤنی میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردی کے دو حملوں کے بعد کی گئی ہے۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مفرور ملزم عدنان رشید کے ٹھکانے پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس حملے میں مفرور عدنان رشید کی ہلاکت کا خدشہ ہے جبکہ ان کی اہلیہ اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ عدنان رشید کے مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن وہ اس کارروائی میں محفوظ رہے اور ان کو میرانشاہ کے بازار میں دیکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق عدنان رشید کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 15 اپریل 2012 کو بنوں جیل پر طالبان کے حملے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے قیدی عدنان رشید کو رہا کروا لیا گیا تھا جو اس وقت جیل کے اندر پھانسی گھاٹ میں موجود تھے۔
عدنان رشید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں چھوٹا لاہور سے ہے۔ وہ اس وقت پاک فضائیہ میں ایئر مین کے عہدے پر فائز تھے جب انھیں 2003 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چِچی میں ہونے والے پہلے حملے میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عدنان رشید کو 2005 میں ایک فوجی عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی اور وہ جیل میں پھانسی کے منتظر تھے۔ وہ پچھلے آٹھ برسوں سے ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہے ہیں۔







