’غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے‘

وزیراعظم میاں نواز شریف نے ملک کی داخلی سلامتی کو ’تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
وزارتِ اطلاعات سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ بات وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہی۔
نواز شریف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے فیصلوں کی حمایت کی تھی اور حکومت اس پر پوری طرح سے عمل کر رہی ہے اور اس بارے میں بہت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
’ہم اس پیش رفت سے سیاسی جماعتوں کو آگاہ کریں گے اور انھیں اعتماد میں لیں گے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ وہ امن کی بحالی، غربت کے خاتمے اور ملکی ترقی کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ :’ہم اس پر کسی قیمت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
پریس ریلیز کے مطابق کابینہ کو ملک کی داخلی سکیورٹی پالیسی کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
ایک طویل بحث کے بعد سیکیورٹی پالیسی میں کابینہ کے ممبران کی جانب سے دی گئی تجاویز کو بھی شامل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
سیکیورٹی پالیسی کے مسودے کو مذید بحث کے لیے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بھی پیش کیا جائےگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔ انھوں کہا کہ پاک افغان سرحد پر ہونے والی غیر قانونی نقل وحرکت پر کو روکنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں افغان وزارت داخلہ سے بات کریں اور یہ مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے فون پر ملک کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
سکیورٹی پالیسی پر بحث کے علاوہ وفاقی کابینہ نے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدات اور سمجھوتوں پر دستخط کرنے کی منظوری بھی دی۔ جن میں بھارت سے بجلی کی تجارت اور عراق میں پاکستانی افرادی قوت بھیجوانے کے لیے مذاکرت کےآغاز کی منظوری شامل ہے۔
اس موقع پر وزیرداخلہ چوہدری نثار نےوفاقی کابینہ کو ملک کی داخلی سکیورٹی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بریفنگ دی۔
نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور مجرموں سے جواب دہی کے لیے ریاست کے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔







