افغانستان کا مستقبل: پاکستان بھارت میں بات چیت شروع

وزیراعظم نواز شریف بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک جرمن تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر ٹریک ٹو کے ساتھ ساتھ اب ٹریک ون پر بھی بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک سابق اہل کار کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اس پر پیش رفت نہیں ہوئی لیکن اب نواز شریف کی حکومت نے یہ نیا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

یہ بات جرمن تھنک ٹینک ’ایف ای ایس‘ کے زیرانتظام اسلام آباد میں’افغانستان سال 2014 اور اس کے بعد‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کے دوران بتائی گئی۔

بھارتی مندوب میجر جنرل ریٹائرڈ اشوک مہتا کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے کردار کو مانتا ہے لیکن افغانستان میں بھارت کا بھی کردار ہے۔

انھوں نے بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی اب تک کل 14 مرتبہ ہندوستان کا دورہ کر چکے ہیں جن میں تین گذشتہ برس کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر کرزئی نے بھارت سے اسلحہ دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بھارت نے محض پاکستان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے انکار کر دیا۔ ان کے خیال میں پاکستان بھارت سے محض اس لیے افغانستان پر بات نہیں کرنا چاہتا کہ اس سے شاید وہاں بھارت کے کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا جائے گا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میڈیا کے ذریعے خیالات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ جب تک مل بیٹھ کر تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو اسلحے کی فراہمی جیسے الزامات پر بات اور تحقیق نہیں ہوگی اس اہم مسئلے پر اعتماد سازی مشکل ہے۔

جنرل اشوک کے مطابق اہم چیلنج افغانستان سے منسلک تمام ممالک کو عدم مداخلت کی پالیسی پر مکمل عمل درآمد، افغانستان کو افغانوں پر چھوڑ دیا جائے اور نیک خواہشات اور عملی جامہ پہنایا جائے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بھارت سے اسلحے کی درخواست کی لیکن پاکستان کے خدشات کی وجہ سے فراہم نہیں کیا گیا: اشوک مہتا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنافغان صدر حامد کرزئی نے بھارت سے اسلحے کی درخواست کی لیکن پاکستان کے خدشات کی وجہ سے فراہم نہیں کیا گیا: اشوک مہتا

سیمینار میں بات کرتے ہوئے افغانستان کے سابق سفیر محمود سیکال کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کا مسئلہ پاکستان سے دیکھیں تو بڑا دکھائی دیتا ہے افغانستان کے اندر سے نہیں۔

’20 ہزار کے لگ بھگ طالبان 30 لاکھ افغانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عام افغان جمہوریت اور آئین کے تحت تبدیلی لا رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے چھوٹی بچیوں کو بطور خودکش حملہ آور تیار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔‘

ان کے خیال میں اگر افغانستان میں قانون کی عمل داری اور اچھی حکمرانی متعارف کروا دی جائے تو اندرونی شدت پسندی کا وہ مقابلہ خود کر لیں گے۔

پاکستانی تجزیہ کار خالد عزیز کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایک بڑا ’تاریخی گناہ‘ سات دسمبر 2001 کو کیا جب اس نے اس وقت کے عبوری صدر حامد کرزئی اور طالبان رہنما ملا محمد عمر کے درمیان ملاقات اور امن معاہدے کو شدت پسندی کے خاتمے تک جنگ کے اعلان سے سبوتاژ کر دیا۔

ایف ای ایس نے اس موقع پر دو سال کی مشاورت کے نتیجے میں علاقائی امن و استحکام کے لیے مرتب کی جانی والی سفارشات بھی جاری کیں۔

سال 2014 کی آمد پر افغانستان سے متعلق اس قسم کے مشاورتی سیمیناروں کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ہر کوئی بظاہر اس سال غیر ملکی افواج کے انخلا اور اس کے بعد کی صورتِ حال کے اندازے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔