’افغان انتخاب میں ہمارا پسندیدہ کوئی نہیں‘

وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان ہندوستان سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔
پاکستان کی قومی سلامتی پر از سرِ نو غور، مواقع اور چیلینجز کے نام سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا پاکستان ایک موثر اور جامع قومی سلامتی کی پالیسی تشکیل دینے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات یقینی بنائے جا سکیں۔
یہ سیمینار اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں منعقد ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا افغانستان کے اگلے سال منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں میں کوئی پسندیدہ نہیں ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ موجودہ حکومت افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور پاکستان افغانستان میں امن کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان ہی نہیں ملکہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح دے رہا ہے اور مثبت تبدیلیاں اس ضمن میں آ رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ان مثبت تبدیلیوں کے پیچھے موجودہ حکومت کی کوششیں ہیں۔
سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ہم تجارت او ر اقتصادی تعلقات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں۔







