’اصل نوادرات چاہییں تو میرے پاس بہت ہیں‘

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’اصل نوادرات چاہییں تو میری پاس موجود ہیں، اس میں چھوٹے سائز کے مجسمے بھی شامل ہے اور ہزاروں سال پرانے سکے بھی۔‘
پاکستان میں نوادارت کو ملک سے باہر سمگل کرنے کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں مقامی میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ نے رواں سال فروری میں بیرون ملک سمگل کیے جانے والے 1155 میں سے 1050 نوادارات کو اصل قرار دیا ہے۔
ان میں گندھار تہذیب کے ہزاروں سال قدیم نوادارت بھی شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> گندھارا تہذیب کے نوادرات برآمد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120706_buddah_statues_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
اسلام آباد کے قریب واقع ٹیکسلا گندھارا تہذہب کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے اور یہاں اس تہذیب کے کھنڈرات بھی واقع ہیں۔ ان کھنڈرات کی سیر کو آنے والے سیاحوں کو اکثر اوقات ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انھیں نوادات فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گندھار تہذیب کے ہزاروں سال پرانے شہر سرکپ کے کھنڈرات میں ایک شخص نے کہا: ’جناب یہ سکے دیکھیں، یہ چھوٹا مجسمہ بھی ہے، سکے کی قیمت دو ہزار روپے سے 12 ہزار روپے تک ہے۔‘

گائیڈ سے جب پوچھا کہ آیا یہ نوادرات اصلی ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ وہ چند ایک لوگوں کو جانتے ہیں جن کے پاس اصل نوادرات ہوتے ہیں اور یہ لوگ بارشوں کے بعد ان کو تلاش کرتے ہیں اور بعض اوقات قریبی کھیتوں میں فصل لگانے سے پہلے ہل چلانے سے سکے اور دیگر نوادرات نکل آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح سے سکے فروحت کرنے والے ایک شخص حنیف نے بتایا کہ ان کے پاس ’قبل مسیح یونانی دور کے سکے موجود ہیں، اس کے علاوہ مہماتما بدھ کی مورتیاں اور مختلف ادوار کے سکے موجود ہیں جن میں چاندی اور سونے، اشوکا دور کے سکے بھی موجود ہیں۔‘
کھنڈرات سے ملنے والے سکوں اور دیگر نوادرات کو سرکار کو دینے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی محنت سے یہ سب حاصل کرتے ہیں۔‘
نوادر فروخت کرنے والے ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ ’یہ کھنڈرات صرف ایک حصہ ہیں اور قریب میں حد نگاہ تک نظر آنے والے کھیتوں کے نیچے بھی کھنڈرات مدفن ہیں اور ہم لوگ یہاں سے نہیں بلکہ وہاں سے یہ تلاش کرتے ہیں اور اسی لیے یہ ہماری ملکیت ہوتے ہیں۔‘

تاہم وہاں سکے فروخت کرنے والے افراد اپنے کاروباری کی مندی سے بھی پریشان تھے کیونکہ بقول ان کے مقامی لوگ مہنگے نوادرات کم ہی خریدتے ہیں لیکن ملک میں شدت پسندی کے واقعات سے پہلے غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے تھے جن میں اکثریت جاپانی سیاحوں کی ہوتی تھی اور یہ لوگ بڑے شوق سے یہ نوادرات خرید لیتے تھے۔
ان میں سے ایک شخص نے کہا ’اب غیر ملکی تو آتے نہیں، مقامی سیاح بھی بہت کم آتے ہیں اور اسی وجہ سے کبھی کبھار ہی کوئی چیز فروخت ہو پاتی ہے۔‘
قدیم گندھارا تہذیب پاکستان میں دریائے سندھ کے مغرب اور دریائے کابل کے شمال میں پشاور سے لے کر سوات اور دیر جبکہ افغانستان میں بامیان تک پھیلی ہوئی تھی۔اس علاقے سے دو ہزار سال قبل مسیح کے نوادرات ملتے ہیں اور ان کی حفاظت اور غیر قانونی فروخت کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو بچایا جا سکے۔







