طالبان کو مذاکرات سے پہلے تحفظ دیا جائے: مولانا سمیع الحق

جمیعت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان پاکستان کے آئین کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کا مطالبہ آئین پر عمل درآمد کا ہے۔
مولانا سمیع الحق جن کے کئی شاگرد کالعدم تحریکِ طالبان کے سرگرم رکن ہیں نے یہ بات لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں گیارہ ستمبر کا واقعہ رونما ہونے کے بعد ہماری تمام حکومتیں غیرملکی تسلط میں چلی گئیں۔ ہماری توقعات تھیں کہ جمہوری دور آئے گا تو اس تسلط کا خاتمہ ہوگا لیکن آصف علی زرداری بھی آمریت والے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں لگ گئے۔‘
مولانا سمیع الحق نے وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں بھی کہا کہ ’میاں نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ ملک کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرائیں گے۔ لیکن اب موجودہ حکومت بھی امریکی ایجنڈے کو چھوڑنے کے بجائے ان کی طرف جا رہی ہے۔ حکومت سےلوگوں کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔‘
مولانا نے میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک جانب بھارت لائن آف کنٹرول پر دیوار بنا رہا ہے تو بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامیوں کو پھانسی دی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف ان سے دوستی کی باتیں کرتے ہیں۔‘
حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن نے ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک عیسائی وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں جس پر مولانا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ آئین سے انحراف ہے کیونکہ آئین کی رو سے کوئی بھی غیر مسلم ملک کا صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔‘
مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’ملک میں سب سے بڑا مسئلہ پاکستانی طالبان کا ہے کیونکہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔‘
مولانا نے الزام عائد کیا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیاگیا مگر اس کے باوجود قبائلی علاقوں میں غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے اگر آپریشن نہ ہورہا ہوتا تو اب تک طالبان سے مذاکرات شروع ہو چکے ہوتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں اور اس سے پہلے انہیں تحفظ دیا جائے کہ امریکا ڈرون حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی اور خود کش حملے ڈرون حملوں کا ردعمل ہیں، امریکا سے دوٹوک بات کریں کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہونا چاہیے۔







