شمالی وزیرستان میں چھ دن بعد کرفیو کا خاتمہ

- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملے اور علاقے میں فوجی کارروائی کے بعد نافذ کیا جانے والا کرفیو چھ دن بعد اٹھا لیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کرفیو کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر منگل کو صبح چھ بجے سے شام چھ بجے کے درمیان علاقے میں کرفیو نہیں ہوگا اور پھر آہستہ آہستہ یہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ پیر کو بھی کرفیو میں ساڑھے تین گھنٹے کی نرمی کی گئی تھی جس کی وجہ سے بنوں اور پشاور سے شمالی وزیرستان آنے والے افراد اور سامان کو راستہ ملا تھا۔
شمالی وزیرستان میں چھ دن تک جاری رہنے والے کرفیو کی وجہ سے نہ صرف علاقے میں خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی قلت پیدا ہوگئی تھی بلکہ علاقے میں علاج کی پہلے سے ناکافی سہولیات بھی میسر نہیں رہی تھیں۔
مقامی آبادی کے مطابق شمالی وزیرستان میں پیر سے ہی مقامی شورئ مجاہدین کی جانب سے حکومت اور فوج کے مخالف بیانات واپس لیے جانے سے صورتحال بہتر ہو رہی تھی۔
پیر کو طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کی شورئ مجاہدین کے ترجمان احمد اللہ احمدی نے ایک بیان میں اس شوریٰ کے مقامی امیر حلیم خان سے منسوب اس بیان کی تردید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر فوج نے پیر کی صبح تک کرفیو نہ اٹھایا تو وہ ان کے ردعمل کے لیے تیار رہے۔
احمد اللہ احمدی نے اپنے بیان میں اسے فرد واحد کا خیال قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حافظ گل بہادرگروپ حکومت کے ساتھ امن معاہدے پرقائم ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس علاقے میں حالات خراب نہیں ہونے دینا چاہتے اور بیان کا مقصد حکومت کو دھمکی دینا نہیں بلکہ اس کی توجہ لوگوں کی مشکلات کی جانب مبذول کرانا تھا۔
مقامی صحافی عمردراز نے بتایا کہ انتظامیہ اورفوج نے لوگوں سے کہا ہے کہ حالات میں آنے والی بہتری پائیدارہے اس لیے وہ کہیں اورجانے کی بجائے اپنے اپنے گھروں میں رہیں کیونکہ حکومت خود بھی چاہتی ہے کہ علاقے میں امن کو دوام ملے اورکسی کوعلاقے سے جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
خیال رہے کہ گزشتہ بدھ کو میر علی کی کھجوری چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں کرفیو کے نفاذ کے علاوہ فوجی کارروائی بھی کی گئی تھی۔
اس کارروائی میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جن افراد کو ہلاک کیا وہ شدت پسند تھے جن میں دس غیرملکی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے برعکس مقامی لوگوں اورطالبان کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق مرنے والے عام لوگ تھے۔
شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی موجودگی کوجواز بنا کر امریکہ اوراس کے اتحادی پاکستان سے کئی بار یہاں آپریشن کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی سربراہی میں کابینہ کی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر بھی یہ بیان جاری کیا گیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات حکومت کی اولین ترجیح ہے لیکن وہ اس کوشش میں ناکامی کے بعد دیگرآپشنزاستعمال کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔
دوسری جانب ملا فضل اللہ کی سربراہی میں تحریک طالبان پاکستان نے حکومت سے مذاکرات کی ابھی تک واضح طور پر حمایت نہیں کی بلکہ وہ اس مذاکرات سے انکاری ہیں۔







