’تحویل میں ہلاک ہونے والوں کے قتل کے مقدمات درج کریں‘

سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سکیورٹی اداروں کی تحویل کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے قتل کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے اور سیکرٹری دفاع سے کہا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کے ذمے داروں کا تعین کر کے اُن کے خلاف کارروائی کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دوران حراست کسی شخص کی بھی ہلاکت قتل کے زمرے میں آتی ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 33 لاپتہ افراد کو کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وزیر دفاع اور سیکریٹری دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف اغوا کی دفعات کے تحت مقدمات درج کریں اور عدالت کو اس ضمن میں آگاہ کیا جائے۔

<link type="page"><caption> ’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ چیف گیا تو معاملہ ختم ہوجائے گا؟‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/11/131129_missing_person_case_sc_army_fc_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/11/131128_supreme_court_missing_persons_karachi_asif_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

یہ احکامات چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو اسلام آباد میں لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران جاری کیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمات درج نہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت کے متوازی معاملات چل رہے ہیں اور نظام میں خلا موجود ہے۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں وزارتِ دفاع کے حکام نے رات گئے بتایا تھا کہ 35 لاپتہ افراد میں سے دو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد میں سے ایک اس سال جولائی میں جب کہ دوسرا گذشتہ برس دسمبر میں ہلاک ہوا تھا۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دورانِ حراست کسی شخص کی ہلاکت قتل کے زمرے میں آتی ہے اور ذمے داران افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں حراستی مرکز کے سپرنٹینڈنٹ عطا اللہ کے مطابق اس حراستی مرکز میں 35 افراد موجود تھے جنھیں فوج کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں اس وقت 43 حراستی مراکز ہیں۔

عدالت کے حکم پر وزیر دفاع خواجہ آصف بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے بینچ سے استدعا کی کہ اس معاملے میں کچھ دنوں کی مہلت دی جائے تاہم عدالت نے اُن کی استدعا مسترد کردی۔

چیف جسٹس نے وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے گذشتہ سماعت کے دوران یقین دہانی کروائی تھی کہ لاپتہ افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کردیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

وزیر دفاع نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق مزید قانون سازی کی جارہی ہے اور چند روز کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترمیمی بل پیش کیا جائے گا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملات قانون سازی سے آگے جا چکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نہ تو اس ضمن میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے اور نہ ہی عدالت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے متوازی بھی معاملات چل رہے ہیں۔

لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت تین دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔