نواز شریف ایک روزہ دورے پر کابل جائیں گے

وزیر اعظم میاں نواز شریف افغانستان میں قیام امن کی دم توڑتی کوششوں کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے ہفتے کو ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے وزیر اعظم نواز شریف کے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔ نواز شریف نے ایک ہفتے قبل اسلام آباد میں پاکستان کا دورہ کرنے والے افغان امن جرگے کے وفد سے ملاقات کی تھی۔
افغان امن جرگے کے ارکان افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے قائم کرنے کی کوششوں میں ہیں تاکہ افغانستان سے نیٹو کی افواج کے انخلاء سے قبل طالبان اور کابل حکومت میں کوئی مفاہمت کی جا سکے۔
افغانستان اور امریکہ کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر افغانستان کے اکابرین پر مشتمل لوئی جرگے نے دستخط کر دیے ہیں لیکن صدر حامد کرزئی افغانستان میں صدارتی انتخابات سے قبل اس معاہدے کی توثیق کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں پندرہ ہزار فوجی اور متعدد فوجی اڈے رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
افغانستان سے نیٹو ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کا کردار زیادہ اہمیت اختیار کر جائے گا اور خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر طالبان کا مقابلہ کرنا آسان نہ ہوگا۔
نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ ان کا افغانستان کا پہلا دورہ ہو گا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نواز شریف ایک روزہ دورے میں صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے اور ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری کے مطابق نواز شریف امن اور افغان مفاہمتی عمل پر بھی صدر کرزئی سے بات کریں گے۔
نواز شریف اور کرزئی کے درمیان اس سے قبل لندن میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی موجودگی میں بھی ملاقات ہوئی تھی۔







