بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان

بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا
،تصویر کا کیپشنبلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا

پاکستان کے قائم مقام الیکشن کمشنر نے ملک میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے قائم مقام الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی کے حوالے سے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات صوبہ سندھ میں 18 جنوری، پنجاب میں 30 جنوری اور خیبر پختونخوا، کنٹونمنٹ بورڈ اور اسلام آباد میں فروری میں ہوں گے۔

انھوں نے ان تاریخوں کا اعلان بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری، وفاقی سیکریٹری، چیئرمین نادرا اور پرنٹنگ کارپوریشن کے ایم ڈی بھی شریک ہوئے۔

قائم مقام الیکشن کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں کو بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے کہا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ملک کی عوام کا جمہوری حق ہے کہ انھیں مقامی حکومتوں تک رسائی ہو۔

یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بدھ 13 نومبر کو الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی تاریخوں پر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی منظوری دی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشن صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق تاریخیں طے کرے۔

اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے بلدیاتی انتخابات کے نظام الوقت پر نظرِثانی سے متعلق الیکشن کمشن کی درخواست اعتراض لگا کر مسترد کردی تھی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی نے منگل 12 نومبر ہی کو ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں الیکشن کمشن سے کہا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے قابل عمل تاریخ کا اعلان کرے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں توسیع سے متعلق الیکشن کمشن کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کمشن مقررہ تاریخوں پر کروانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ سات نومبر کو قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈیول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

یہ قرارداد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایوان میں پیش کی تھی اور اس متفقہ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپر نجی پرنٹنگ پریس سے چھپوائے جانے کی صورت میں غلطی کا احتمال بہت زیادہ ہے اس لیے ان کی چھپوائی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان ہی سے کروائی جائے۔