طالبان کا منور حسن کے بیان کا خیر مقدم

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے حکیم اللہ محسود کو شہید اور طالبان کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ شہید نہیں ہیں۔
شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ وہ منور حسن کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بیان کو وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ منور حسن نے اس بیان میں اپنی جماعت کے بانی سربراہ مولانا مودودی کی اصل فکر کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔
پاکستان میں ان دنوں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینے یا نہ دینے کے بارے میں بحث ہو رہی ہے جب کہ گذشتہ روز سید منور حسن نے جیو ٹی وی کے ایک پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتے طالبان کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی شہید ہیں۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ تحریک کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دیکھے گئے تھے۔
تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے یہ بات پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے کہی۔
ترجمان نے کہا کہ ان کی ملا فضل اللہ سے قبائلی علاقوں میں دس سے پندرہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
شاہد اللہ شاہد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کا فیصلہ تحریک کے نئے سربراہ شوریٰ کے اجلاس میں خود کریں گے جس پر پھر عمل درآمد کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد شوریٰ کے اراکین مذاکرات کے لیے راضی نہیں ہوں گے اور دوسرے اگر ملا فضل اللہ کے مزاج کا مطالعہ کیا جائے تو بھی مذاکرات کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے جانب سے مذاکرات کے لیے اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔







