ٹی ٹی پی سے مذاکرات :’کیا سیاسی حکومت آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمائے گی‘

- مصنف, حمیرہ کنول
- عہدہ, اسلام آباد
کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ المعروف ملا ریڈیو پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے موڈ میں نظر نہیں آتے لیکن وزیراعظم نواز شریف اب بھی خواہاں ہیں کہ طالبان کوئی مثبت جواب دیں۔
ادھر قومی اسمبلی اور سینیٹ کےاجلاسوں کا بائیکاٹ کرنے والی حزبِ مخالف جماعتوں نے حکومت کو گیارہ نومبر تک طالبان سے مذاکرات پر اعتماد میں لینے کی مہلت دے رکھی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کی سربراہی فضل اللہ کو ملنا اور تحریک کی قیادت کا فاٹا سے نکل کر بندوبستی علاقوں تک جانا ایک بڑی تبدیلی ہے اور یہ کہ فضل اللہ کو چنا جانا دراصل پاکستان کے لیے نفرت بھرا پیغام ہے۔
سینیئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں طالبان کے لیے نئے امیر کی تقرری مجبوری میں کیا گیا فیصلہ لگتا ہے اور سرحد پار افغانستان میں موجود فضل اللہ کے لیے پاکستان آنا اتنا آسان نہیں ہوگا جس کی وجہ سے بنیادی امور ان کے نائب خالد حقانی کے ہاتھ میں ہوں گے۔
حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور اب فضل اللہ کےسامنے آنے پر پاکستانی فوج نے چپ سادھ رکھی ہے لیکن دفاعی تجزیہ کار حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو امن مذاکرات پر حملہ قرار دینے سے گریزاں ہیں اور اکثریت کا خیال ہے کہ پہلے سے شکوک وشبہات کا شکار مذاکراتی عمل اب ملا فضل اللہ کی سربراہی میں ممکن ہی نہیں ہو پائے گا۔
سابق سیکرٹری فاٹا برگیڈیئر(ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ فضل اللہ سے 2008 اور 2009 میں مذاکرات ہوئے تھے۔ ایک معاہدہ بھی ہوا تھا اور حکومت نے ان کے تمام مطالبات مانے تھے لیکن فضل اللہ نے حکومت کے ساتھ بد عہدی کی ،جس کے بعد آپریشن کیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ایسے آدمی کے ساتھ مذاکرات کی کیا ضرورت ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو مذاکرات کی پیشکش پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘
جنرل (ر) طلعت مسعود کا خیال ہے کہ فضل اللہ کو چنا جانا ایک اچھا فیصلہ ہے اس سے پاکستان کی سویلین حکومت میں ٹی ٹی پی اور اس کے ایجنڈے کے بارے میں موجودہ ابہام ختم ہو جائے گا کیونکہ ملا فضل اللہ بات چیت نھیں چاہتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق حکومت میں سکیورٹی مشیر جنرل (ر) محمود درانی کو حکومت اور طالبان کی دوستی ہوتی مشکل نظر آ رہی ہے۔

’مجھے یہ مشکل لگتا ہے کہ آپ ایک ایسے بندے کی طرف جس نے اتنی قتل وغارت کی ہے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور وہ بھی جب وہ کہہ رہا ہے کہ میرا ایجنڈا تو وہی پرانا ہے ۔ وہ جمہوریت پر ہمارے پارلیمانی نظام اور عدالتی نظام پر یقین نھیں رکھتے۔‘
لیکن بعض ماہرین اب بھی مذاکرات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ آئی آیس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا کہنا ہے کہ فضل اللہ کا انتخاب ایک ردِعمل ہے کیونکہ طالبان کے پاس جواز ہے کہ حکومتِِ پاکستان نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
مگر حمید گل سمجھتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذ اکرات اور مصالحت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:’جب امریکہ اور بھارت سے بات ہو سکتی ہے تو پھر یہ (طالبان) تو ہمارے اپنے لوگ ہیں۔‘
عسکری ماہرین یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جلد یا بدیر حکومت کو کالعدم تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن ہی کرنا پڑےگا۔
یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا فوج فضل اللہ کی جانب سے سوات اور دیر میں ہونے والے نقصانات کو بھول جائے گی یا آگے بڑھ کر حکومت کو سمجھانے کی کوشش کرے گی؟ اس نکتے پر ماہرین کی رائے منقسم ہے۔
برگیڈیئر (ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور فوج کو بھی چاہیے کہ وہ پس پردہ حکومت کو تجویز دے جیسے وہ عام طور پر دیتی رہتی ہے لیکن اس مشورے کو منظر عام پر نہیں لایا جانا چاہیے۔
سکیورٹی امور کے ماہر اکرام سہگل کہتے ہیں کہ فضل اللہ کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود فوج خاموش ہی رہے گی اور حکومت کو مذاکرات کرنے دے گی کیونکہ اگر فوج نے طاقت کے استعمال کیا تو الزام فوج پر ہی آئے گااور اس کے لیے لال مسجد آپریشن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
فضل اللہ کو سربراہ بنا کالعدم تحریک طالبان اپنا پیغام حکومت پاکستان تک پہنچا چکی ہے۔یہاں سوال ایک ہی ہے کہ کیا سیاسی حکومت آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمائے گی اور سوات کے بعد اب پوری ریاستِ پاکستان کو تجربہ گاہ بننے دے گی؟







