پاکستانی پارلیمان میں حکیم اللہ کی ہلاکت پر بحث متوقع

پاکستان میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس پیر کو منعقد ہو رہے ہیں جن میں تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر بحث متوقع ہے۔
حکیم اللہ محسود اپنے چار ساتھیوں سمیت جمعہ کو قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں امریکی جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائل کا نشانہ بنے تھے۔
پاکستانی حکومت نے اس حملے کو امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش اور مذاکرات پر شبِ خون مارنے کے مترادف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اتوار کی شب بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو دن میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں پارلیمان کا اجلاس اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتیں موجود ہوں گی جو اس فیصلے کی سٹیک ہولڈر ہیں کہ دہشتگردی کے مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم دوسری جماعتوں کا موقف سنیں گے تاکہ ہمارے سامنے پاکستانی عوام کے ہر طبقۂ فکر سے سوچ رکھنے والے کا نقطۂ نظر سامنے آ سکے۔‘
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے پیر کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں ملک کی امن وامان کی صورتحال پر غور ہوگا اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان داخلی سلامتی کی موجودہ صورتحال پر کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔
خیال رہے کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے اس ڈرون حملے کے اگلے دن ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکیم اللہ محسود کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ قیامِ امن کی کوششوں کا قتل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ نےیہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ مشکل کی گھڑی ہے اور اسے اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنی ہے اور یہ بھی جاننا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس حملے پر احتجاج بھی کیا تھا جس پر امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ طالبان سے بات چیت کرنا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
دوسری جانب تحریک طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تاحال کسی طالبان کمانڈر کو بھی تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا اور تمام ’ذمہ داروں‘ سے رائے طلب کئی گئی ہے۔







