سیاسی قیادت کی فوجی قیادت سے ملاقات: کچھ مشورے کچھ فیصلے

وزیر اعظم نواز شریف نے منگل کے روز سلامتی کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں آئندہ ہفتے وزیر اعظم کے امریکی دورے سے قبل ملک کی ’دفاعی قیادت‘ نے سیاسی قیادت پر خطے کی صورتحال کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بیان کیا ہے۔
اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف اہم غیر ملکی دورے پر روانہ ہونے والے ہیں اور ملک کی ’دفاعی قیادت‘ نے خطے کی صورتحال پر وزیر اعظم کو اپنا نکتہ نظر بیان کیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے بیان کے مطابق پاکستانی فوج کےسربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام کے علاوہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی، امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی اجلاس شریک ہوئے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اگلے ہفتے امریکہ کےدورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ تئیس اکتوبر کو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔
نواز شریف حکومت کو پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا اہم مسئلہ درپیش ہے۔ نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک میں امن عامہ کی صورتحال کو درپش مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں ان کی حکومت کو متفقہ طور پر شدت پسندوں سے بات چیت کا مینڈیٹ دیا گیا۔
وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا کہ اجلاس میں اندرون ملک سکیورٹی سے متعلق وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اندرون ملک سکیورٹی کی صورتحال کو بات چیت کے ذریعے بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات آئین کے دائرے میں ہونے چاہییں۔
تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے گزشتہ ہفتے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا نظام ’کافرانہ‘ ہےاور دو ہزار چودہ میں افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے باوجود پاکستان کے خلاف شدت جاری رکھیں گے۔
شدت پسندوں سے مذاکرات کے اعلان کے باوجود ملک میں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور مبصرین کے خیال میں شدت پسند مذاکرات کی میز پر جانے سےپہلے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کے اعلانات کے باوجود شدت پسندوں سے باضابطہ مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہو سکا ہے اور تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت نے مذاکرات کا عمل میڈیا کے حوالے کر دیا ہے اور وہ میڈیا کے سا تھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
وزیر اطلاعات نے شدت پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ایک ماحول پیدا کرنا اور شدت پسندوں کی بہت سے گروہوں سے رابطے کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے مراحل کے حوالے کچھ کہنا مشکل ہے۔ وزیر اطلاعات نے حکیم اللہ محسود کے بیان پر تبصرہ کرنے گریز کیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم 23 اکتوبر کو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ امریکہ کو ڈرون حملے بند کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کریں گے۔
ماضی میں امریکہ ڈرون حملوں کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے اس جاری رکھنے کا اعلان کر چکا ہے اور امریکہ شاید اس وقت تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملے بند نہیں کرے گا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ پاکستانی سرزمین سے جنگجو افغانستان میں کاررائیوں کے لیے نہیں جائیں گے اور افغان طالبان کو دوبارہ تر و تازہ ہونے کے لیے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں بند نہیں ہو جاتیں۔







