لنکن ٹیم پرحملے کےملزم کی رہائی کےخلاف اپیل

سترہ جون سال دو ہزار نو کو ملزم زبیر کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا تعلق پنجابی طالبان سے بتایا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنسترہ جون سال دو ہزار نو کو ملزم زبیر کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا تعلق پنجابی طالبان سے بتایا گیا تھا

استغاثہ کے مطابق سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث مبینہ ملزم زبیر کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور انہیں ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق درخواست کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے ملزم زبیر عرف نیک محمد کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

اس کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدل صمد چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کیس میں شواہد کے بالکل برعکس ملزم زبیر کی ضمانت منظور کی تھی۔

<link type="page"><caption> ’ملزمان کی اکثریت رہا یا عدالتی کارروائی کی منتظر‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110722_pak_terrorism_release_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدل صمد چوہدری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے مطابق ایک زخمی گواہ نے ملزم کو شناخت نہیں کیا جبکہ ریکارڈ کے مطابق سری لنکن ٹیم پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے تین پولیس اہلکاروں نے ملزم زبیر کو شناخت کیا ہے اور اس کے علاوہ ایک نجی ٹی وی چینل کی حملے کی فوٹیج میں ملزم کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان نے بھی زبیر کا نام لیا تھا اور حملے کے اگلے دن ہی زبیر کو ملزم نامزد کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملزم زبیر کا کیس دیگر ملزمان کے مقابلے میں خاصا مضبوط ہے اور اب دس اکتوبر کی سماعت کے دوران عدالت کو اسی بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ذیلی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی اور حقائق کے منافی ہے۔

بدھ کی سماعت کے بارے میں بتاتے ہوئے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدل صمد چوہدری نے کہا کہ رواں سال آٹھ مئی کو ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور ہوئی تھی اور حکومت نے ضمانت کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی تاہم اس دوران عدالتوں میں موسم گرما کی چھٹیوں اور بعد میں یہ درخواست مختلف بینچز میں زیر سماعت رہی اور آج بدھ کو دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت میں فریقین سے جواب طلب کرنے کے لیے دس اکتوبر کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدھ کی سماعت کے دوران ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا اور اب پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو دس اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس سماعت میں ضمانت کی منسوخی کی درخواست پر ملزم کے خلاف موجود شواہد کی بنیاد پر عدالت میں دلائل دیے جائیں گے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق اس سے ایک دن پہلے منگل کو لاہور ہائی کے تین رکنی جائزہ بینچ میں ملزم زبیر کی حراست میں مزید توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی اور بینچ نے ملزم کی حراست میں مزید توسیع کرنے سے متعلق حکومتِ پنجاب کی درخواست مسترد کر دی۔

حملے میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے جبکہ چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے
،تصویر کا کیپشنحملے میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے جبکہ چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے

انہوں نے کہا کہ جائزہ بینچ نے یکم ستمبر کو ملزم کی حراست میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی تھی اور منگل کی سماعت میں پنجاب حکومت نے حراست میں مزید ساٹھ دن حراست میں توسیع کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے ملزم کے خلاف ناکافی شواہد کی بنا پر اس کو مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ سترہ جون سال دو ہزار نو کو لاہور کی پولیس نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے ایک ملزم زبیر عرف نیک محمد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق پنجابی طالبان نامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔

تین مارچ کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ دور لبرٹی چوک میں اس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے جارہی تھی۔اس واقعہ میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی ہوئے جبکہ چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔