کل جماعتی کانفرنس نو ستمبر کو

چوہدری نثار علی خان نے اس سلسلے میں گزشتہ رات مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی
،تصویر کا کیپشنچوہدری نثار علی خان نے اس سلسلے میں گزشتہ رات مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی

حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی تیار کرنے کی غرض سے نو ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس سلسلے میں گزشتہ رات مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کر کے انھیں باضابطہ طور پر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

<link type="page"><caption> قیامِ امن: جے یو آئی کی کل جماعتی کانفرنس</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130227_jui_peace_conference_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کو ترجیح‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130214_anp_all_parties_conference_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’حکومت طالبان سے مذاکرات کا بِلا تاخیر آغاز کرے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130207_nawaz_sharif_taliban_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> طالبان سے مذاکرات پر سیاسی جماعتوں کا محتاط ردِ عمل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130204_taliban_talks_reaction_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ داخلہ نے جن رہنماؤں سے بات کی ان میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے سید منور حسن، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی خان، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، مسلم لیگ قاف کے چوہدری شجاعت حسین، مسلم لیگ فنکشنل کے امتیاز شیخ اور علامہ ساجد میر شامل ہیں۔

دہشت گردی کے مسئلے پر پہلے یہ کل جماعتی کانفرنس بارہ جولائی کو ہونا تھی مگر بعد میں حکومت نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کی تجاویز پر مزید صلاح مشورے اور غوروخوض کے لیے اسے مؤخر کردیا تھا۔

ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت بھی اسی مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس کرا چکی ہیں۔

پاکستان میں بدامنی سے نمٹنے کی خواہش ہرسطح کے ہرطبقے میں رہی ہے لیکن دیگرکوششوں کی طرح ماضی میں ایسی کل جماعتی کانفرنسیں بھی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں۔

اس سے پہلے رواں سال 27 فروری کو جمعیت علمائے اسلام نے بھی اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کروائی تھی۔

جمعیت علمائے اسلام کے جھنڈے تلے ہونے والے اس کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی 30 بڑی سیاسی اورمذہبی جماعتوں کی اہم قیادت اور قبائلی سطح پر بننے والے جرگے کے اراکین نے شرکت کی تھی۔

14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے موقعے پر اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔