کامن ویلتھ ہاکی:پاکستان کو 2 ہفتے کی مہلت

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو مزید دو ہفتے کی مہلت مل گئی ہے اور اب اسے سولہ اگست تک اپنی شرکت کی تصدیق کرنی ہوگی تاہم وہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے توسط سے ہوگا۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عارف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے بارے میں ان کی ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اس بارے میں پاکستان سپورٹس بورڈ نے فیڈریشن کو متوازی اولمپکس ایسوسی ایشن سے رابطہ کرنے کے لیے کہا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
سید عارف حسن نے کہاکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس رویے اور ای میل کاجواب نہ دینے کے بارے میں انہوں نے کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کو آگاہ کر دیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں کامن ویلتھ گیمز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے رابطہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور پوری قوم کی ہاکی سے جذباتی وابستگی ہے لہذا پاکستان کو کامن ویلتھ گیمز کے ہاکی مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

سید عارف حسن نے بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے ان سے کہا کہ اگر وہ انہیں شرکت کی خواہش سے آگاہ کر دیں تو باضابطہ دعوت نامہ بھیجا جاسکتا ہے جس پر انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اپنی ذمہ داری پر کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کو پاکستانی ہاکی ٹیم کی شرکت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین دو اگست کو باضابطہ دعوت نامہ بھیجیں گے اور جن کھیلوں میں پاکستان نے شرکت کرنی ہے اس کی تصدیق چاہیں گے اور اس کے لیے سولہ اگست کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔
سید عارف حسن نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان جس جس کھیل میں شرکت کرے گا اس کی تصدیق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے ہی ہوسکے گی کوئی بھی فیڈریشن براہ راست ان کھیلوں کے منتظمین سے رابطہ نہیں کر سکتی۔
سید عارف حسن نے کہا کہ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ متوازی ایسوسی ایشن کامن ویلتھ گیمز کے سات کھیلوں میں شرکت کے دعوے کر رہی ہے کیونکہ آئی او سی اور کھیلوں کی عالمی فیڈریشنز اس ایسوسی ایشن کو تسلیم ہی نہیں کرتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ متوازی ایسوسی ایشن کے عہدیدار پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔







