بلوچستان کے لیے کوئی ’میڈ ان چائنا‘ حل نہیں

- مصنف, ثنااللہ بلوچ
- عہدہ, بلوچستان سے سابق رکنِ سینیٹ
حالیہ برسوں میں بلوچستان میں تشدد پھوٹنے کی ایک وجہ سابق فوجی صدر جنرل مشرف کی جانب سے شروع کردہ اربوں ڈالر کے میگا پروجیکٹ ہیں۔
مشرف کے اربوں ڈالر مالیت کے میگا پروجیکٹوں کی استحصالی نوعیت سے بلوچستان کا دبا ہوا مسئلہ پھر سے اٹھ کھڑا ہوا۔
مشرف نے گوادر کی بندرگاہ کا منصوبہ شروع کیا اور سندک میں دنیا کے بہترین تانبے اور سونے کے ذخائر بغیر شفاف اور منصفانہ نیلامی کے چین کے حوالے کر دیے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بلوچستان کے قدرت وسائل بغیر کسی رکاوٹ کے نکالے جا سکیں، انھوں نے صوبے میں تین فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کا اعلان کیا جس سے بلوچوں کا غصہ مزید بڑھا۔
اس کے بعد پی پی پی حکومت نے چھاؤنیوں کی تعمیر تو روک دی تاہم سندک سے تانبے اور سونے کے ذخائر چینی بغیر کسی قسم کی مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے مسلسل نکالے جا رہے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس چینی کمپنی نے متعلقہ ضلعے یعنی چاغی میں تعلیم، صحت یا تعمیری ڈھانچے پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کیا۔
سادہ انداز میں کہا جائے تو مشرف کے چمکتے دمکتے میگا پروجیکٹس میں مقامی شراکت داری یا مقامی لوگوں کے فائدے کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا تھا۔ ان کی انہی غلط اور استحصالی پالیسیوں کے نتیجہ میں بلوچ معاشرہ تباہ ہوگیا، سیاسی کشیدگی بڑھی اور تشدد پھوٹ پڑا جس کی وجہ سے معاشرتی اور ترقیاتی اشاریوں میں زبردست کمی دیکھی گئی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نومنتخب حکومت بالکل سابقہ آمر کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے جس نے بلوچستان کے حساس منصوبوں کے بارے میں یکطرفہ اور بے حس فیصلے کیے تھے۔
نواز شریف نے اپنے حالیہ دورہِ چین میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر چین کے لیے عسکری لحاظ سے اہم اور منافع بخش پروجکٹس کا تعلق بلوچستان کے خطے سے ہے جہاں خاص کر گذشتہ کچھ عرصے میں شدید فساد اور نا انصافی دیکھی گئی ہے۔
نواز شرف کے چین کے ساتھ ریل، سڑکوں، گوادر اور قدرتی وسائل سے متعلق ان یکطرفہ معاہدوں کے ردِ عمل میں بلوچ مسلح گروہوں کی جانب سے چین کے زیرِ انتظام سندک پروجیکٹ کی جانب روانہ ایندھن کے ٹینکروں پر حملوں کے علاوہ کچھ خاص سامنے نہیں آیا۔ تاہم بلوچ قوم پرست میاں محمد نواز شریف کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ غم و غصے اور ان میگا پروجیکٹوں سے متعلق بلوچ حساسیت کے بارے میں ذرا سی بھی غلطی کے شدید نتائج سامنے آئیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
توانائی کے بھوکے چین کو بلوچستان کی مسائل اور دردناک سماجی حالات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا رہا۔ اور چینیوں نے بھی کوئی سیاسی حل پیش نہیں کیا اور نہ ہی بلوچستان میں شدید غربت، ناقص غدا، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل پر بات کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بلوچستان میں دلچسپی رکھتے ہیں، بلوچوں میں نہیں۔
چین بہت بڑی آبادی والا ملک ہے اور اس کا اپنی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ذرائع اور مواقع ڈھونڈنا جائز ہے۔ اور چین خطروں کو مول لینے والا ملک ہے جس نے افریقہ کے کئی ممالک میں چند پُرخطر پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ہے۔ جو بات پاکستانی سیاستدانوں کو سمجھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور پیسہ بلوچستان کے لیے سیاسی استحکام اور ترقی کی ضمانت نہیں۔

بلکہ ان سڑکوں، ریلوں اور بندگاہوں کا پاکستان اور بلوچستان کو کم ہی فائدہ ہوگا۔ اس مواصلاتی نظام کا مقصد مغرب کی جانب گامزن چینی مصنوعات کے لیے تیز رسائی فراہم کرنا ہے جن میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ شامل ہیں۔ تیار شدہ مصنوعات کی آمد و رفت کے علاوہ اس نظام کو بلوچستان کے معدنی وسائل کو چین پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا جن میں تانبہ، سونا اور دیگر نایاب معدنیات شامل ہیں۔
برطانوی راج کے دوران بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر ریل اور سڑکیں بنائی گئیں مگر ان سب سے تعلیم، سماجی تبدیلی یا معاشی ترقی نہیں آئی۔ ان ترقیات کا مقصد نوآبادیاتی استعمار کے مقاصد پورا کرنا تھا جن میں برطانوی اقتدار قائم کرنا، فوجی تعیناتی اور رسائی اور اقتصادی استحصال تھے۔
ان جرامت دانہ چیلنجوں کا سامنا کرنے سے پہلے میاں محمد نواز شریف اور ان کی ٹیم کو بلوچستان کے لیے ایک نیا حل سوچنا ہوگا۔ ایک ایسا حل جس پر قومی سطح پر بحث ہو، مشاورت ہو اور پھر اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔ چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی، کان کنی کی بڑی بڑی مشینیں، زمین چیرتی ریلیں اور سڑکیں مکمل ہو کر بھی ’بلوچ‘ کی زندگی پر بہت تھوڑا اثر ڈال سکیں گی۔
بلوچستان میں انسانی حقوق سے متعلق شدید بحران پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عدم تحفظ، امن و امان کی صورتحال اور فرقہ واریت بھی ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب ہمارے سکیورٹی اداروں کا بلوچ قومیت کی جدوجہد اور اعتدال پسندی کے خلاف بطور آلہ استعمال کر رہے ہیں۔
چین ان تمام مسائل کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ چین شاید ملک میں توانائی کا مسئلہ حل کر سکتا ہے، بگڑتی ریلوے ٹھیک کر سکتا ہے اور وسائل لے کر جا سکتا ہے مگر امن، سیاسی استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے میاں محمد نواز شریف کو اپنا راستہ خود ڈھونڈنا ہوگا۔ انھیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ بلوچ سماج کو ناقبول استعماری انداز پر تعمیر کیے گئے سیاسی، حفاظتی اور معاشی اداروں کو بدلنے کے لیے تیار ہیں۔
اس بے اعتمادی کے ماحول میں نواز شریف کو بلوچستان میں انسانی حقوق کے شدید مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہوگی۔ ان کی حکومت کو طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو کہ اس افراتفری اور عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کسی سیاسی حل پر راضی نہیں ہوتے۔
بات یہ ہے کہ بلوچستان کے لیے کوئی ’میڈ ان چائنا‘ یعنی چین میں بنایا گیا حل نہیں ہے۔
مصنف بلوچ رہنما ہیں اور بلوچستان سے سابق رکنِ سینیٹ بھی ہیں۔







