بلوچستان: تین رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے عجلت میں تین رکنی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔
پہلے مرحلے میں بدھ کی شام تین اراکین اسمبلی نے صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔
صوبائی وزیر کا حلف اٹھانے والوں میں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر سردار ثناء اللہ زہری، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال اور نیشنل پارٹی کے نواب محمد خان شاہوانی شامل ہیں۔ سردار ثناء اللہ زہری کو سینیئر صوبائی وزیر مقرر کیا گیا ہے۔
گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے گورنر ہاؤس میں ایک مختصر تقریب میں ان سے حلف لیا۔ نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نو جون کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے 65اراکین میں سے صرف پندرہ کے لگ بھگ اراکین وزیر بن سکتے ہیں۔
صحافی شہزادہ ذوالفقار نے کابینہ کی مکمل تشکیل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ اختلافات کو قرار ددیا ہے۔ ’بالکل اختلافات موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جمعرات کو بجٹ کو پیش کیا جانا نہ ہوتا توواسلام آباد میں معاملات طے کیے جاتے۔ اس کے بعد چودہ رکنی یا پندرہ رکنی مکمل کابینہ حلف اٹھا لیتی۔‘
’بجٹ کی منظوری حاصل کرنا کابینہ سے ضروری ہے جس کے باعث عجلت میں حکومت تشکیل دینے والی تین جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی سے ایک ایک وزیر لیا گیا۔‘
مسلم لیگ (ن) اس وقت بلوچستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ اور گورنر اس جماعت سے نہیں ہیں اس لیے وہ نہ صرف کابینہ میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی مانگ رہی ہے بلکہ اس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اسے اچھی وزارتیں دی جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







