ڈاکٹر عبدالمالک بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں قائدِ ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی سنیچر کی دوپہر دو بجے تک جمع کرائے جا سکتے تھے لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کسی امیدوار نے مقررہ وقت کے اختتام تک ڈاکٹر عبدالمالک کے مقابلے میں کاغذات داخل نہیں کیے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے اجلاس اتوار کو 11 بجے منعقد ہوگا جس میں ڈاکٹر عبدالمالک کے انتخاب کا باقاعدہ اعلان ہوگا۔

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کامیابی کے لحاظ سے سرفہرست تین جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے اتحاد قائم کیا ہے اور ڈاکٹر عبدالمالک کو مشترکہ طور پر ان جماعتوں کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

ان جماعتوں کے علاوہ جمعیتِ علماء اسلام فضل الرحمان گروپ نے بھی سنیچر کو ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچستان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ ماضی میں یہ عہدہ صوبے کے نوابوں اور سرداروں کے پاس ہی رہا ہے۔

انہوں نے سنیچر کو میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ مسخ شدہ لاشوں کا ملنا، لاپتہ افراد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور اغوا برائے تاوان جیسے مسائل کا حل اُن کی ترجیح ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ وہ صوبے میں کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور صوبے کے تمام مسائل کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں گے۔ انھوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ بھی اُن حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے حالات زیادہ خراب ہیں اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست بزرک رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔