سولہ اضلاع کو بجلی کی فراہمی تاحال معطل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہ ہونے والی بجلی کی مرکزی لائن کو تیسرے روز بھی بحال نہیں کیا جا سکا ہے جس کے باعث صوبے کے سولہ اضلاع میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
بلوچستان کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے مطابق بجلی فراہم کرنے والی اس لائن کے چار ٹاورز کو تین روز پہلے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا تھا جس کے باعث سترہ اضلاع کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
کوئٹہ میں بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے بحال کر دی گئی لیکن باقی سولہ اضلاع میں چوبیس گھنٹوں میں باری باری صرف ایک ایک گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
تین دن سے بجلی نہ ہونے کے باعث گرم موسم اور ماہِ رمضان کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خضدار سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی منیر نور نے بی بی سی کو بتایا کہ بجلی نہ ہونے کے باعث لوگوں کو پینے کی پانی کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بلوچستان میں سال دو ہزار دو میں حالات خراب ہونے کے بعد صوبےکو بجلی فراہم کرنے والی مین ٹرانسمیشن لائن کے ٹاورز کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔حکومت تاحال اس ٹرانسمیشن لائن کے تحفظ کے لیے کوئی موثر انتظام نہیں کر سکی۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بجلی نہ ہونے کے باعث گرمی کے موسم میں کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ڈیزل مہنگا ہونے اور زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے کی وجہ سے بلوچستان میں زراعت کا زیادہ تر انحصار بجلی پر ہے۔ جبکہ صنعتیں نہ ہونے کے باعث بلوچستان کی 70فیصد آبادی کے معاش اور روزگار کا دارومدار زراعت پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمان بازئی نے اس موسم میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے بجلی کی متاثرہ لائن کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
بجلی کے ان ٹاورز کو اڑانے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔







