خیبر پختون خوا کا متوازن بجٹ پیش

خیبر پختون خوا میں اتحادی حکومت نے ایک متوازن بجٹ پیش کیا
،تصویر کا کیپشنخیبر پختون خوا میں اتحادی حکومت نے ایک متوازن بجٹ پیش کیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ میں صوبائی حکومتوں نے آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی بجٹ پیش کر دیا ہے۔

صوبہ خیبر پختون خوا اسمبلی میں صوبائی وزیرخزانہ سراج الحق نے پیر کو اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ آئندہ مالی سال کے لئے صوبے کی کل آمدنی کا تخمینہ تین کھرب چوالیس ارب روپے لگایا گیا ہے جو رواں مالی سال کی نسبت تیرہ اعشاریہ پانچ فیصد زیادہ ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ ایک متوازن بجٹ ہے۔

بجٹ میں تجویز کردہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا کل حجم ایک سو اٹھارہ ارب روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیش کردہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت دس ہزار روپے ماہنہ مقرر کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر کی تقریر کے مطابق صوبے میں صحت کے لئے تقریباً بائیس ارب اسّی کروڑ ستر لاکھ روپے جبکہ تعلیم کے لئے تقریباً چھیاسٹھ ارب ساٹھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب صوبہ سندھ کی صوبائی اسمبلی میں صوبے کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے بجٹ پیش کیا جس کا کل حجم چھ کھرب سترہ ارب روپے ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں کل آمدنی کا تخمینہ پانچ کھرب پچانوے ارب روپے ہے اور اس طرح یہ بجٹ اکیس ارب روپے خسارے کا ہے۔

اُن کے مطابق اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

اس بجٹ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بیاسی ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور آئندہ پانچ سالوں میں ایک لاکھ پچاس ہزار نئی نوکریاں دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

صوبے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے کُل تراسی ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ کے مطابق تونائی کے شعبے کے لیے اکیس ارب اور صحت کے لیے سترہ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں دس ہزار پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے، اس کے علاوہ چالیس کروڑ مالیت کے سرویلنس کیمرے بھی خرید کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا۔