سکیورٹی فورسز پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا قافلہ رزمک ایشا روڑ پر جا رہا تھا کہ اسے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد شمالی وزیرستان میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی قبائل، طالبان اور حکومت کے مابین 2007 سے امن معاہدہ ہے۔

دریں اثناء فوجی حکام کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں پینتیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں متعدد کامیابیاں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

’ کرم ایجنسی کے علاقے محمدی ٹاپ، خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ میں حیدر کن ڈائو اور میدان کے مرکزی علاقوں سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے‘۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کا گزشتہ کافی عرصے سے غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی بھی کی ہے۔

اس کے علاوہ کرم ایجنسی میں بھی یہ ہی صورتحال ہے،اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی میں گیارہ مئی کے انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے میں دھماکے کے بعد وہاں فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی۔