پولیو کارکنوں پر حملے ’غیر اسلامی‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کی صحت کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں علماء و مشائخ نے ملک میں پولیو ورکروں پر ہونے والے حملوں کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
’مسلم اُمہ کے بچوں کے صحت مند مستقبل کا اعادہ‘ کے موضوع پر اس اجلاس کا انعقاد اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اور جامعہ الازہر مصر کے اشتراک سے پانچ اور چھ جون کو اسلام آباد میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں علماء، مشائخ ، مفتیان، ڈاکٹروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم پولیو ورکرز پر حملے اور ان کے قتل کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے اور قتل انتہائی سفاک اور بزدلانہ عمل ہے، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔‘
اجلاس کے اعلامیے میں اسامہ بن لادن کا پتہ لگانے میں مبینہ طور پر امریکی جاسوسی ادارے کی مدد کرنے کے جرم میں سزا یافتہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے مبینہ طور پر کیےگئے اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ایبٹ آباد میں مبینہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کارروائی نے پاکستانی عوام میں صحت عامہ کے اقدامات سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کی بھر پور سفارش کرتے ہیں کہ صحت عامہ سے متعلق اقدامات کو صرف صحت عامہ کے لیے استعمال کیا جائے۔‘
اجلاس میں پولیو ویکسین کے متعلق شکوک و شبہات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں استعمال ہونے والے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے اور اس سے تولیدی نظام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔‘
اجلاس میں ڈرون حملوں پر تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’ہم ڈرون حملوں میں بےگناہ افراد اور معصوم بچوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







