نئی پنجاب اسمبلی کے خدوخال

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب میں نئی صوبائی اسمبلی میں جہاں مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بن کر نیا ریکارڈ بنائیں گے وہیں قائد حزب اختلاف کا عہدہ ایک ایسی جماعت کے حصے آئے گا جس کے امیدوار پہلی بار پنجاب اسمبلی تک پہنچے ہیں۔
تحریکِ انصاف کی طرف سے نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نئے قائد حزب اختلاف ہوں گے۔اس سے پہلے یہ منصب مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کے پاس رہا۔
ماضی میں صوبے کے سابق وزرائے اعلیٰ میں شہباز شریف واحد وزیراعلیٰ ہیں جو پنجاب اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون کو بلایا ہے جس میں ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب پنجاب اسمبلی میں کوئی سابق کھلاڑی اس کا رکن بننے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ ماضی میں کرکٹر حفیظ کاردار، سرفراز نواز، اختر رسول اور قاسم ضیا پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں۔
حفیظ کاردار اور اختر رسول صوبائی وزیر رہے جبکہ قاسم ضیا کے پاس پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کا عہدہ رہا۔
ماضی میں صوبائی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے پر فائز رہنے والے سیاست دانوں میں سے کوئی بھی اس مرتبہ پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہوسکا۔
سینئر صحافی اور پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری کے سابق صدر فرخ سعید خواجہ کہتے ہیں کہ گذشتہ صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق میں کسی کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی جب کہ اس مرتبہ مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزرا میں چودھری انور چیمہ، بیگم تہمینہ دولتانہ اور ریاض فتیانہ ان انتخابات میں رکن قومی اسمبلی تو منتخب نہیں ہوسکے تاہم ان کے بیٹے عامرسلطان چیمہ، عرفان عقیل دولتانہ اور احسن ریاض فتیانہ رکن پنجاب اسمبلی بننے میں کامیاب ہوگئے۔
عامر سلطان چیمہ پہلے بھی صوبائی وزیر رہ چکے ہیں جب کہ احسن ریاض فتیانہ پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں ایسے سیاست دانوں کی کمی نہیں جو دوسری یا تیسری بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے ساتھ کئی نئے چہرے بھی اس بار حلف اٹھائیں گے۔
اس مرتبہ پانچ خواتین براہِ راست انتخاب میں حصہ لے کر پنجاب اسمبلی تک پہنچیں ہیں اور ان تمام کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔
پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری کے سابق صدر فرخ سعید خواجہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ اسمبلی کی نسبت نئی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے حصے میں صرف چند نسشتیں آئی ہیں۔
ان کے بقول گذشتہ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی خواتین اچھی خاصی تعداد میں تھیں اور انہوں نے اپوزیشن کا بھر پور کردار ادا کیا۔
گذشتہ پنجاب اسمبلی میں سردار دوست محمد کھوسہ محددو مدت کے لیے وزیر اعلیٰ بنے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم ان کے والد اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر سردار ذوالفقار علی کھوسہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
سردار ذوالفقار کھوسہ نے یہ نشست اپنے بیٹے اور پیپلزپارٹی کے امیدوار سیف الدین کھوسہ کو مات دے کر حاصل کی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نوابزداہ غنضفر گل کے بیٹے حیدر مہدی بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، تاہم انھوں نے اپنے والد کی سیاسی جماعت کے بجائے ان کی مخالف جماعت مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔
ٹی وی اداکارہ کنول مسلم لیگ ن کی طرف سے محضوص نشستوں پر رکن پنجاب اسمبلی بنیں۔ وہ پہلی اداکارہ ہیں جو پنجاب اسمبلی تک پہنچی ہیں۔







