این اے 250: دوبارہ پولنگ پر ایم کیو ایم کا بائیکاٹ

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 250 کے 43 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما رضا ہارون نے جمعہ کی شام پریس کانفرنس میں این اے 250 کے 43 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

اس سے قبل پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 250 میں دوبارہ الیکشن کے معاملے پرمتحدہ قومی موومنٹ کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار ارکان پر مشتمل بینچ نے اس معاملے سے متعلق فریقین کے دلائل کو سُنا۔

<link type="page"><caption> الیکشن 2013 کے انتخابی نتائج</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/05/130515_pakistan_election2013_map_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> الیکشن 2013</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/pak_election_2013.shtml" platform="highweb"/></link>

متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار، بابر غوری اور فروغ نسیم نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ محض 43 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے اس لیے بہتر ہے کہ پورے حلقے میں ہی دوبارہ انتخاب کروائے جائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس حلقے میں180 پولنگ سٹیشن ہیں جبکہ باقی ماندہ پولنگ سٹیشن پر ڈالے جانے والے ووٹوں سے متعلق بھی اُن کی جماعت کو شکوک و شبہات رہیں گے۔

دوسری جانب تحریک ِانصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے الزام عائد کیا تھا کہ حلقے کے 43 پولنگ سٹیشنوں پر مبینہ طور پر دھاندلی کی گئی، انتخابی عمل تاخیر سے شروع ہوا یا عملہ غیر تربیت یافتہ تھا اس سے بہتر ہے کہ مذکورہ پولنگ سٹیشن پر ہی انتخابات کروائے جائیں۔

الیکشن کمیش نے اس ضمن میں صوبہ سندھ کے چیف سیکرٹری اور سندھ پولیس کے سربراہ کے موقف کو بھی سنا، جس کے بعد ایم کیو ایم کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ اس حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ کی امیدوار خوش بخت شجاعت اور تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کے درمیان مقابلہ ہے۔اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کروانے سے متعلق ایک اُمیدوار مولوی اقبال حیدر نے بھی درخواست دائر کی تھی۔

دریں اثناء الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ گیارہ مئی کے عام انتخابات میں کامیاب تمام امیدوار انتخابات پر اپنے اخراجات کے گوشوارے بیس مئی تک اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کرائیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کو بھی انتحابات پر آنے والے اپنے اخراجات کے گوشوارے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کرائیں۔

بیان کے مطابق انتخابات میں ان کامیاب امیدواروں کے نام سرکاری گزٹ میں اس وقت شائع نہیں کیے جائیں گے جب تک وہ قانون کے مطابق انتخابات پر کیے گئے اپنے اخراجات کے گوشوارے جمع نہ کرائیں۔

کراچی میں تحریک انصاف نے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج بھی کیا
،تصویر کا کیپشنکراچی میں تحریک انصاف نے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج بھی کیا

الیکشن کمیشن کے بیان میں آزاد امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ انتخابات میں تمام آزاد کامیاب اراکین کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے بارے میں اپنا حلفیہ بیان جس پر اوتھ کمشنر کے سامنے دستخط کیے گئے ہوں، متعلقہ صوبائی الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد امیدوار اپنے حلفیہ بیان میں یہ وضاحت کریں کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں اپنی مرضی سے شامل ہو رہے ہیں نہ کہ کسی زبردستی کی وجہ سے۔

خیال رہے کہ گیارہ مئی کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا جس میں الیکشن کمیشن کے مطابق میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب اور قومی اسمبلی کی سطح پر اکثریت حاصل کی تھی جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اکثریتی جماعتوں کے طور پر سامنے آئیں۔