’دریا میں ہی دوبارہ لیٹ جائیں گے‘

سال دو ہزار دس میں وادی میں سیلاب سے خاندان افراد متاثر ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنسال دو ہزار دس میں وادی میں سیلاب سے خاندان افراد متاثر ہوئے تھے

پاکستان کی وادی سوات کے نوجوان سید رؤف شاہ بیرون ملک مقیم ہیں لیکن انہیں کبھی کبھار اپنوں کی یاد ستاتی ہے تو چند دنوں کے لیے وطن لوٹ آتے ہیں۔

اس بار بھی انہیں گھر والوں کی یاد کچہ ایسے وقت آئی جب ملک میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔انتخابات سے توقعات کے بارے میں ان کا جواب کافی دلچسپ تھا کہ’امیدوارتو سارے وہیں ہیں جو پہلے بھی ان کے حلقے سے انتخاب لڑتے رہے ہیں اور وہ ان سے مایوس بھی ہیں لیکن اب کی بار اہل علاقہ ان میں سے بہترین امیدوار کا انتخاب کریں گے‘۔

یہ تو وہی بات ہوئی کہ بدترین میں بہترین کا چناؤ، رؤف شاہ سوات کے ایک خوبصورت علاقے مدین کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے تیس سوات دو سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی ان کے جواب مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کے ساتھ ہی کھڑے فہد نے یہ دعویٰ کر کے مزید حیران کر دیا کہ ’سال دو ہزار دس میں سیلاب نے اس علاقے کو تباہ کر دیا تھا اور مستقبل میں سیلاب جیسی قدرتی تباہی سے بچنے کی منصوبہ بندی کی راہ میں وہ ادارے حائل ہیں جن کا کام ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو تربیت فراہم کرنا ہے‘۔

فہد کے مطابق ’لوگوں کو تربیت دینے کے لیے سول ڈیفنس اس رقم سے کچھ حصہ مانگتے ہیں جو سیلاب سے ہونے والی تباہی یا اس حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے دیے گئے ہیں یعنی دنیا بھر سے پاکستان کو امداد کی مد میں جو کچھ ملا اس میں بھی رشوت درکار ہے۔

وہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سینیئر رضاکار ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گذشتہ تین سال سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں سیلاب آنے کی صورت میں لوگوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

علاقے میں سال دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے مسائل انتخابات کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

بالائی سوات کے اس علاقے میں صحافیوں کی نمائندگی کرنے والے خان اکبر کا کہنا تھا کہ اہل علاقہ ان ہی کو ووٹ دیں گے جو سیلاب سے بےگھر ہونے والے ہزاروں لوگوں کے مسائل حل کریں گے اور متاثرہ لوگ حلقے کے امیدواروں کو اپنے اس مشروط فیصلے کے بارے میں آگاہ بھی کر چکے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی حالت تین سال بعد خراب ہے
،تصویر کا کیپشنسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی حالت تین سال بعد خراب ہے

سوات کے حلقہ این اے تیس سوات 2 کے لیے روانہ ہوئے تو وادی کے ہیڈکوارٹر مینگورہ سے سیاحوں کی جنت کہلانے والے علاقے مدین، بحرین اور کلام کی جانب جانے والی سڑک تباہی کا منظر پیش کر رہی تھی۔

اس علاقے میں صرف سڑکیں ہی نہیں بلکہ سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانات کے مکین بھی کھلے آسمان تلے اپنے تباہ حال مکانات کے ملبے پر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس حلقے کے امیدوار مشکلات سے دوچار عوام سے ووٹ مانگنے آتے ہیں اور ان کو تسلی بھی دیتے ہیں جبکہ کچھ متاثرہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں۔

متاثرین ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ علاقے کے سابق کونسلر ملک احمد خان کے مطابق حکومت مکانات کی تعمیر کے لیے متبادل جگہ فراہم کرے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب یہاں پر ہموار زمین کا ملنا قدرے مشکل ہے لیکن اگر حکومت انہیں زمین فراہم کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اس صورت میں لوگ دریا کے راستے میں آنے والی زمین’دریا میں ہی دوبارہ لیٹ جائیں گے‘ اور دریا میں جب طغیانی آتی ہے تو وہ کسی کی تفریق نہیں کرتا ہے۔

اس حقلے میں کچھ لوگوں کو شکوہ تھا کہ ہمارے مسائل حل کرنا ایک طرف، ان کے منتخب کردہ رہنما نے کبھی علاقے کو رخ بھی نہیں کیا ہے۔

اس حلقے سے گزشتہ انتخاب میں سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سید علاوالدین نتخب ہوئے تھے۔

یہاں تک کچھ لوگوں نے کہا کہ علاقے کے چند لوگوں نے اپنے رہنما کو تلاش کرنے کے لیے ایک بار اخبار میں علامتی اشتہار بھی دیا تھا۔