مشرف مقدمہ:’سیکرٹری داخلہ درخواست دہندہ مقرر‘

وفاقی حکومت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے ملکی آئین توڑنے اور آئین کی پامالی سے متعلق دیگر مقدمات کے اندراج کے لیے سیکرٹری داخلہ کو درخواست دہندہ مقرر کیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کرلیا ہے کہ اس ضمن میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارت قانون نے یہ بات جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی۔
وزارت قانون کے قائم مقام سیکرٹری سہیل قدیر صدیقی کا کہنا ہے کہ سیکرٹری داخلہ کی تعیناتی سٹیچوٹری ریگولیشن آرڈر (ایس آر او) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے جو سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات سے متعلق 31 جولائی 2009 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اقدمات کریں گے۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ 31 جولائی 2009 کے عدالتی فیصلے، 23 جنوری 2012 میں پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق متفقہ قرارداد اور 24 مارچ کو پرویز مشرف کے وطن واپسی سے متعلق کیا اقدامات کیے ہیں۔
اس سے قبل اٹارنی جنرل نے عدالت سے جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی جو مسترد کر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ وفاق کی طرف سے آج ہی جواب دیں۔
اٹارنی جنرل عرفان قادر اس مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انھوں نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ نگراں حکومت اس معاملے پر کوئی قدم اٹھانے سے قبل مندرجہ ذیل نکات پر غور کر رہی ہے:
پہلا یہ ہے کہ آیا نگراں حکومت کے پاس ملک میں شفاف انتخابات کرانے کے باعث وقت کم ہے اور اس وجہ سے کیا یہ نگراں حکومت کے مینڈیٹ میں آتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نگراں حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اگر وہ اس طرح کی کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے ان کی جانبداری پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا اور آیا اس کارروائی کو انتخابات سے قبل یا بعد میں شروع کرنا صحیح ہو گا کیونکہ وزارت داخلہ اس وقت انتخابات میں حصہ لینے والے ہزاروں امیدواروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نگراں حکومت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے کارروائی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
سابق صدر مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ عدالت کسی طور پر بھی وفاق کو ہدایات جاری نہیں کرسکتی کہ وہ کسی کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے ایسا کیا تو وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ آئین میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے اور کوئی بھی ادارہ اپنی حدود سے باہر نہیں جاسکتا۔
پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کا فیصلہ اُن کے موکل کی عدم موجودگی پر دیا گیا جو کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔
پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست گُزاروں کا موقف تھا کہ اس معاملے میں لارجر بینچ تشکیل دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وفاق نے عدالت کو صرف یہ بتانا ہے کہ اکتیس جولائی کے سپریم کورٹ کے احکامات اور اس ضمن میں سینیٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
ان درخواستوں کی سماعت بائیس اپریل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق فوجی صدر کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں آٹھ روز کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ صدر مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت سنہ دوہزار سات میں ہوئی جبکہ اُن کے موکل کو اس مقدمے میں سنہ دوہزار نو میں شامل کیا گیا جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے پرویز مشرف کو اعانت مجرمانہ پر اس مقدمے میں شامل کیا ہے۔







