بلوچستان: سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی کے لیے جیمرز

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی حکومت نے اہم سیاسی رہنماؤں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جیمرزخریدنے کی منظوری دی ہے۔
جیمرز خریدنے کا فیصلہ منگل کی شب نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش خان باروزئی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس ، سیکرٹری داخلہ ، سی سی پی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ 200 انتخابی امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کر دی گئی ہے ۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا نواب ثناء اﷲ زہری کو بھی ان کے مشورے اور ضرورت کے مطابق سکیورٹی اہلکار فراہم کئے گئے ہیں تاہم ان کے قافلے پر ابتدائی معلومات اور تحقیقات کے مطابق آئی ای ڈی کے ذریعے حملہ کیاگیا۔
محکمۂ پولیس ہنگامی بنیادوں پر جیمرز خریدے گی جو اہم سیاسی رہنماؤں کو فراہم کیے جائیں گے جس سے آئی ای ڈی کے ذریعے دہشت گردی کی کاروائیوں کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیاگیا کہ حکومت امن و امان قائم رکھنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی کیونکہ انتخابات میں دہشت گردی کے واقعات اور کاروائیوں کا خدشہ موجود ہے، تاہم اس کے لیے انتخابی امیدواروں کا تعاون بھی ناگزیر ہے انتخابی امیدوار ضابطہ اخلاق کی پابندی کرکے ان خدشات کو کم کرسکتے ہیں۔
اجلاس میں صوبے کے حساس اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیاگیا کہ ان اضلاع میں 25 اپریل تک مختلف فورسز کے سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں امیدواروں کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی کو لازمی قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیاگیا کہ جو امیدوار ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کرتا اور جس سے امن وامان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہو اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دی جائے گی اور اسلحہ کی نمائش پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کےلیے دیکھنا ہوگا کہ بنیادی خرابی کہاں ہے تاکہ ا سے ٹھیک کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران سکیورٹی خدشات لاحق ہیں اور یقیناًجہاں کمزوری ہوگی وہاں تخریب کاروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا ۔
ان کا کہنا تھا کہ جس حد تک ممکن ہو کمزوریوں کو دور کیا جائے اور حکومت کی اتھارٹی کو چیلنج کیا جانا کسی صورت قابل برداشت نہیں اس چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ صوبائی حکومت اور پاک افواج نے متاثرہ علاقے میں مشترکہ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا ہے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر پی ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کیا جانے والا امدادی سامان لے کر ماشکیل پہنچے ہیں۔
جبکہ دالبندین اور خاران سے بھی امدادی سامان ادویات اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں ماشکیل روانہ کردی گئیں ہیں۔







