بلوچستان:انتخابات کے لیے متعدد سابق وزراء نااہل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں الیکشن ٹریبونل نے ایک سابق وفاقی وزیر اور متعدد سابق صوبائی وزراء کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔
کوئٹہ میں الیکشن ٹریبونل نے بدھ کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایون عزیز کرد کو نااہل قرار دے دیا۔
وہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے اور سابق حکومت میں پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر کامیابی کے بعد وفاقی وزیر بنے تھے۔
ہمارے نمائندے کے مطابق الیکشن ٹریبونل نے کوہلو بارکھان سے مسلم لیگ (ق)کی ٹکٹ پرانتخابات میں حصہ لینے والے میرمحبت خان مری کو بھی نااہل قرار دیا کیونکہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے نہ صرف ان کو نااہل قرار دیاتھا بلکہ دو ہزار چھ کے بعد تمام سرکاری مراعات واپس لینے اور ان کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیاتھا۔
ٹریبونل نے پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیرِخوراک میر علی مدد جتک کو بھی جعلی ڈگری کی وجہ سے نااہل قرار دیا۔ اس سے قبل جعلی ڈگری کیس میں مقامی عدالت نے انہیں دوسال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔
ٹریبونل نے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے رہنماء سیداحسان شاہ کو بھی جعلی ڈگری کیس کی وجہ سے نااہل قرار دیا جبکہ نیشنل پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر یاسین بلوچ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی۔
اس کے علاوہ ٹریبونل نے جعفرآباد سےصوبائی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ (ن)کے امیدوار میر ظہورحسین کھوسہ اور میر غفور لہڑی کو بھی گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ انتخابات کے لیے ناہل قرار دیے جانے والے امیدوارالیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







