پی پی پی نے امیدواروں سے استعفے لے لیے

 اٹھارہویں آئینی ترمیم میں بھی وفاداری تبدیل کرنے والے رکن اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کا قانون منظور ہوچکا ہے
،تصویر کا کیپشن اٹھارہویں آئینی ترمیم میں بھی وفاداری تبدیل کرنے والے رکن اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کا قانون منظور ہوچکا ہے

پاکستان کی سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات سے پہلے ہی اپنے نامزد امیدواروں سے استعفے لے لیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ میں امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے ساتھ ایک ڈرافٹ بھی دیا گیا ہے جس میں امیدواروں نے تحریری طور پر سپیکر سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ وہ اپنی نشست سے مستعفی ہو رہے ہیں اور اس استعفے کو قبول کرنے کے ساتھ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔

اس ڈرافٹ کی کاپی بی بی سی کے پاس بھی موجود ہے۔

ایک دوسرے ڈرافٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جس وقت مناسب سمجھیں سپیکر کو رکن اسمبلی کا استعفیٰ پیش کرسکتے ہیں۔

ہر امیدوار سے دس رپے کے سٹیمپ پیپر پر ایک اور حلف نامہ لیا گیا ہے جس میں امیدوار کا کہنا ہے کہ اگر وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا تو پارٹی قیادت پر ذاتی فائدے یا مفاد کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالے گا اور تمام فرائض و ذمہ داریاں پارٹی منشور، قیادت کے احکامات کی پیروی اور ہدایت کے تحت ادا کی جائیں گی۔

اس حلفے نامے میں امیدوار نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ خود کو اور اپنے ووٹ کو پارٹی کی ہدایت اور احکامات کے تحت وقف کرے گا۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے کیونکہ ماضی میں کئی امیدوار اپنی وفاداریاں تبدیل کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں بھی وفاداری تبدیل کرنے والے رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا قانون منظور ہوچکا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار سے تین لاکھ روپے اور صوبائی نشست کے امیدوار سے دو لاکھ رپے ٹکٹ فیس لی گئی ہے۔

یہ فیس ڈیمانڈ ڈرافٹ کی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل میں جمع کرائی گئی ہے۔