پی پی انتخاب سےپہلے ہی لاہور سے پسپا؟

پیپلز پارٹی نے لاہور میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے ایک بھی ایسے امیدوار کو نامزد نہیں کیا جنہیں پارٹی کی مرکزی کمان کا حصہ قرار دیا جا سکے۔
ماضی میں لاہور سے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے اہم ترین لیڈر الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ ان لیڈروں میں بابائے سوشلزم شیخ رشید، شیخ رفیق اور ڈاکٹر مبشر حسن پھر جہانگیر بدر اور اعتزاز احسن اور سلمان تاثیر جیسے لیڈر شامل تھے۔
لیکن سنہ دوہزار تیرہ کے الیکشن کے لیے اب تک جن امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایک بھی مرکزی لیڈر نہیں ہے۔
سب سے اہم ترین امیدوار ثمینہ گھرکی کو قرار دیا جاسکتا ہے دوسرا نام آصف ہاشمی کا ہوسکتا ہے اور تیسرا بشری اعتزاز احسن اور چوتھا نوید چودھری کا ہو سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ان تین چار ناموں کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کے نوازشریف ، شہباز شریف ،حمزہ شریف خواجہ سعد رفیق اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جاوید ہاشمی جیسے مرکزی لیڈر لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی ذہنی طور پر لاہور سے اپنی شکست کو تسلیم کیے بیٹھی ہے۔
صحافی اور کالم نگار نجم ولی خان کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے مقامی لیڈر حیلے بہانے سے ان انتخابات سے کترا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر قاسم ضیاء اور میاں مصباح الرحمان ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ٹکٹ کے لیے درخواست دینا بھی گوارا نہیں کی۔ پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری زکریا بٹ جو ماضی میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ چکے ہیں اس بار پوری پارٹی کی الیکشن مہم کی ’نگرانی‘ کا بہانہ کرکے امیدواری سے دستبردار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان تو مسلم لیگ نون میں ہی شامل ہوچکے ہیں جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکرٹری حسنات شاہ کے بارے میں بھی اخباری اطلاعات یہی ہیں کہ وہ خود ہی امیدوار نہیں بننا چاہتے۔
گذشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی پارٹی لاہور سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی صرف دو دو نشستیں حاصل کر سکی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے بیشتر امیدوار ووٹوں کے بہت بڑے فرق سے ہارے تھے اور ان انتخابات میں بھی مبصرین پیپلز پارٹی کو مزید برے حالات میں دیکھ رہے ہیں۔
لیکن تجزیہ نگار نجم ولی خان کا کہنا ہے کہ یہی وقت پارٹی کو خون دینے کا تھا لیکن شکست کے خوف نے چوری کھانے والے میاں مٹھوؤں کو پھر سے اڑا دیا ہے۔
پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری زکریا بٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ پیپلز پارٹی لاہور کا دفاع نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں میں جیت کے لیے پوری کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے کہا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں،آصف زرداری صدر مملکت ہیں اور بلاول بھٹو کم عمری کے باعث الیکشن نہیں لڑسکتے تو ہم کس کو لاہور سے الیکشن لڑواتے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی لاہور ہے جسے آصف علی زرداری نے اپنا گڑھ بنانے اور سابق گورنر سلمان تاثیر نے پنجاب کا لاڑکانہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن امیدواروں کے ناموں کے ابتدائی اعلان کے بعد لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی لاہور میں اب تیسرے نمبر کی پارٹی کا کردار ادا کرنے کو خود ہی تیار ہوگئی ہے۔
سینئیر صحافی لیاقت انصاری کاکہناہے کہ پیپلز پارٹی نے لاہور فتح کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ان انتخابات میں ایک دو کو چھوڑ کر اس نے تقریباً تمام حلقوں میں ماضی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو کھڑا کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تھکے ہارے اور پست حوصلہ گھوڑے ریسں نہیں جیتا کرتے۔







