جنوبی وزیرستان کا حلقہ 41

پاکستان میں ایک ایسا قبائلی علاقہ ہے جہاں صرف ایک جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کی بالادستی تھی، لیکن آج اس کی قوت تقسیم ہوتی جا رہی ہے اور لوگ مختلف سیاسی پارٹیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔
قبائلی علاقہ جات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پولٹیکل پارٹی ایکٹ 2011 لاگو کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی مذہبی لوگوں کے علاوہ کسی بھی سیکولر پارٹیوں کی قیادت کھلے عام سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں اُمیدوار سیاسی بنیاد پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے حلقہ این اے 41 میں فروری 2008 کے الیکشن میں کل 11 امیدواروں نے حصہ لیا تھا، ووٹ ڈالنے کی شرح 33.2 فیصد تھی اور کل 31240 ووٹ ڈالے گئے تھے۔
اس وقت حلقہ این اے 41 میں سیاسی سرگرمیاں جوش و خروش سے جاری ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹوں پر الیکشن لڑنے والے اُمیدوار پارٹی کے جھنڈوں کے بغیر اپنی انتخابی مُہم چلا رہے ہیں۔ البتہ آزاد اُمیدوار رنگ برنگ جھنڈوں کے ساتھ میدان میں اُتر آئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان کا حلقہ این اے 41 جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن اب وہاں سابق ایم این اے اور جمعیت کے اُمیدوار مولانا عبدالمالک اتنے مضبوط اُمیدوار نہیں جتنے پہلے دور میں دکھائی دیتے تھے۔
تاہم 2002 کے الیکشن میں مولانا عبدالمالک ایک آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن ان کی سیاسی وابستگی جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تھی اس لیے وہ جیتنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شامل ہوگئے اسی طرح 2008 کے انتخابات بھی مولانا عبدالمالک ہی دوبارہ کامیاب ہوگئے۔
الیکشن 2013 کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ایک دفعہ پھر مولانا عبدالمالک کو ٹکٹ دیا ہے۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ پچھلے دو انتخابات میں مولانا عبدالمالک کو جتوانے میں طالبان کے مولانا نذیر گروپ کا کافی عمل دخل تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تاہم اس دفعہ ان کو مُلا نذیر گروپ کے طالبان کی حمایت حاصل نہیں ہے اور عوام کی اکثریت بھی ان کے خلاف ہے۔ مُلا نذیر گروپ کے سربراہ صلاح الدین ایوبی نے چند دن پہلے تمام اُمیدواروں کو بتایا تھا کہ وہ الیکشن مُہم کے دوران غیر جانبدار رہیں گے۔
مبصرین کے خیال میں اس کی ایک وجہ مولانا عبدالمالک کی پچھلے دس سالہ دور اقتدار میں کوئی بڑا اہم اجتماعی کام نہ کرنا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس دفعہ جمعیت علمائے اسلام (ف) میں خاصے اختلافات موجود ہیں۔
مولانا عبدالمالک کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دیگر ناراض ارکان میں سے تین آزاد حیثیت سے انتخابات لڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ووٹ بنک تقسیم ہونے کا خدشہ ہے۔
اور اس دفعہ ویسے بھی مقامی قبائل کی سیاسی مزاج میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر آزاد طریقے سے ووٹ ڈالنے کا موقع ملا تو زیادہ تر ووٹ آزاد خیال اُمیدواروں کو ملیں گے۔
وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں میں مولانا عبدالمالک کے خلاف دو بار احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں جمعیت علماء اسلام ف کے حمایتوں کے علاوہ خود علماء بھی شامل تھے۔
جنوبی وزیرستان حلقہ این اے 41 سب ڈویژن وانا کی تحصیل شکئی، برمل، وانا اور توئے خلہ اور سب ڈویژن سروکئی کی تحصیل تیارزہ پر مشتمل ہے وانا، شکئی اور برمل تحصیل میں احمدزئی وزیر قبائل آباد ہیں۔ تحصیل توئے خلہ میں سلیمان خیل اور دوتانی جب کہ تیارزہ میں محسود قبائل آباد ہیں۔







