نواز کے کاغذات نامزدگی چیلنج، نوٹس جاری

پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کردیا ہے اور اس ضمن میں ریٹرننگ آفیسر کے سامنے اعتراضات پر مبنی ایک درخواست دی گئی ہے۔
ریٹرننگ آفیسر نے پیپلز پارٹی کی درخواست پر نواز شریف کو پانچ اپریل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی کو ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سہیل ملک نے چیلنج کیا ہے۔
نواز شریف سولہ برس کے وقفے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اکتوبر ننانوے میں اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد سعودی عرب چلے گئے تھے اور دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔
دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں نواز شریف پاکستان واپس آگئے تھے تاہم انہوں نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔
ریٹرننگ آفیسر کے سامنے سہیل ملک کے وکیل میاں حنیف طاہر نے یہ اعتراضات اٹھائیں ہیں کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں اس لیے وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں۔
میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے ریٹرننگ آفیسر کو بتایا کہ اصغر خان کیس میں نواز شریف ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جو نادہندہ ہیں اور انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے لی گئی رقم واپس نہیں کی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل ملک کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ نواز شریف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدہ کرکے سعودی عرب گئے تھے تاہم وہ عوام کے سامنے اس معاہدے کے بارے میں غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کے بقول نواز شریف سیاست میں دوہرہ معیار رکھتے ہیں کیونکہ ایک طرف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب جب جنرل مشرف پاکستان میں ہیں تو انہوں نے کارروائی تو دور کی بات ان کے خلاف کوئی بیان تک نہیں دیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل نے استدعا کی کہ ان کے مدمقابل امیدوار نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہ اترنے پر نااہل قرار دے کر ان کے کاغذات مسترد کیے جائیں۔







