پی پی پی پی کو تیر کا انتخابی نشان مل گیا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پی پی پی پی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کو’تیر‘ کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا ہے۔
پیر کو الیکشن کمیشن کے پنجاب سے رکن جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن اور’تیر‘ کے انتخابی نشان کے معاملے کی سماعت کی۔
بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کو’تیر‘ کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا فیصلہ سنایا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نام پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
پیپلزپارٹی کی سابق رہنما ناہید خان نے انتخابی نشان پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔
بینچ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر پیپلز پارٹی کی سابق رہنما اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو کارکن زخمی ہو گئے۔
سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماء اور سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے سال دو ہزار دو اور سال دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں’تیر‘ کے نشان سے حصہ لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بہت منصفانہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق پارٹی کے پرانے انتخابی نشان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
فاروق ایچ نائیک کے مطابق پی پی پی پی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اب تیر کے نشان سے انتخابات میں حصہ لے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور پارٹی انتخاب میں سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اب جماعت کے جنرل سیکرٹری اور بلاول بھٹو زرداری پیٹرن انچیف ہیں۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے بیس مارچ کو سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کر دیے تھے تاہم کمیشن نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کو’تیر‘ کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ پیپلزپارٹی کی سابق رہنما ناہید خان کی اس درخواست کے بعد کیا تھا جس میں انہوں نے کمیشن سے ’تیر‘ کا ہی نشان مانگا تھا۔
اس کے ساتھ ناہید خان، سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو، پیپلز پارٹی کے سینیٹر جہانگیر بدر نے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن ان کے نام پر کی جائے۔







