
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں ان کے گھروں تک پہنچا دی گئیں
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پشاور کے نزدیک ماشو خیل میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے جانے والے کم از کم اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا ہے۔
فاٹا سیکریٹریٹ میں ایک اعلی اہلکار نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات پشاور سے قریباً چالیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب نیم قبائلی علاقے حسن خیل سے اکیس لیویز اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی قبائل کے ذریعے تمام لاشیں پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر تک پہنچائی گئیں جس کے بعد انتظامیہ نے لاشیں ان کےگھروں تک پہنچا دی ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نےایک نامعلوم مقام سے فون کر کے ان اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور بتایا کہ یہ مولانا گل نصیب، عبدالحمید، فیصل اور پیر صاحب کی مبینہ طور پر زیر حراست ہلاکت کا بدلہ ہے۔
"اس کی ڈیوٹی ہاسٹل پر تھی۔ میں پشاور میں تھا۔ مجھے اطلاع ملی کہ طالبان نے ان پر حملہ کر دیا ہے اور سب کو اغوا کر لیا ہے۔ ان کے اغوا کے دو روز بعد ہمیں ان کی لاشیں مل جاتی ہیں۔ اس کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ اب یہ سب بے بس اور تنہا ہیں۔"
ہلاک ہونے والے اہلکار کا بھائی حسین بادشاہ
تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس سے پہلے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام اہلکار مقامی تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اہلکار زخمی حالت میں بچ گیا ہے اور دوسرا زندہ اپنے گھر پہنچ گیا ہے لیکن انتظامیہ کا ابھی تک ان سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ جس علاقے سے لیویز اہلکار اغواء ہوئے تھے یہ ایک کمپاؤنڈ تھا جہاں لیویز اہلکاروں کی رہائش بھی تھی اور قریب ہی تین چیک پوسٹیں ہیں۔
ایک مقامی سرکاری اہلکار نوید اکبر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نیم فوجی اہلکاروں کی لاشیں اس جگہ سے چار کلو میٹر دور سے ملی ہیں جہاں سے انہیں اغوا کیا گیا تھا۔

ایک اہلکار زخمی حالت میں بچ گیا ہے
ہلاک ہونے والے ایک اہلکار کے بھائی حسین بادشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کی ڈیوٹی ہاسٹل پر تھی۔ میں پشاور میں تھا۔ مجھے اطلاع ملی کہ طالبان نے ان پر حملہ کر دیا ہے اور سب کو اغوا کر لیا ہے۔ ان کے اغوا کے دو روز بعد ہمیں ان کی لاشیں مل جاتی ہیں۔ اس کی سات بیٹیاں اور ایک لڑکا ہے۔ اب یہ سب بے بس اور تنہا ہیں۔‘
یاد رہے کہ بھاری خودکار اسلحے اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈوں (آر پی جی) سے لیس شدت پسندوں نے پشاور کے جنوب میں جانی خوڑ اور حسن خیل میں لیویز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
یہ رواں مہینے میں پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔
دو ہفتے قبل پشاور کے ہوائی اڈے پر ایک خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنما بشیر بلور کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں سات دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔.






























